خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 284 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 284

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۸۴ خطبہ جمعہ ۱۰ جون ۱۹۶۶ء ابھی چند روز ہوئے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ میں باہر کی ایک جماعت میں گیا مسجد میں پہنچ کر میں نے اپنا بیگ رکھا اور نماز ادا کی وہ دوست کہتے ہیں کہ مجھے ان لوگوں کی مہمان نوازی کی ضرورت نہ تھی کیونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہوا ہے، میری جیب میں پیسے تھے اور مجھے خیال بھی نہ تھا کہ میں کسی کے پاس جا کر کھانا کھاؤں۔لیکن مجھے یہ احساس ہوا کہ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ مسافر کا خیال رکھو مگر ہمارے ان دوستوں نے میری طرف کوئی توجہ ہی نہیں کی۔ہوسکتا ہے کہ میری طرح کوئی اور مسافر یہاں آئے اور وہ ضرورت مند ہو۔اگر اس سے بھی ایسا ہی بے توجہی کا سلوک ہو تو اس کی ضرورت پوری نہ ہوگی اسی احساس کے ماتحت میں یہ رپورٹ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں تا کہ آپ دوستوں کو اس طرف متوجہ کریں۔تو اللہ تعالیٰ نے ابنُ السَّبِیلِ (مسافر) کے متعلق جو فرائض ہم پر عائد کئے ہیں ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں ادا کرنے کی کوشش کریں۔ہر احمدی کا فرض ہے کہ جب کوئی اجنبی اسے نظر آئے تو وہ اس سے تعلق قائم کرے اور اس کا تعارف حاصل کرے اور اسے پوچھے کہ آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں اور کہاں تشریف لے جائیں گے۔اگر آپ اس سے ملاپ پیدا کریں گے تو آپ اس کی ضرورت کو بھی پورا کر سکیں گے اس طرح اس کی ضرورت پوری ہو جائے گی اور آپ کو ثواب ملے گا۔اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور آپ کی اور سلسلہ کی قدر پیدا ہوگی کیونکہ مسافر کے حالات کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ تھوڑی سی بے رخی بھی اس کے دل پر بڑا گہرا اثر چھوڑتی ہے۔یہی بھلائی کا حال ہے۔میں یورپ میں پھرتا رہا ہوں ایک جگہ صرف اتنا ہوا کہ مجھے راستہ کی واقفیت نہ تھی۔میں نے کسی سے پوچھا تو اس نے یہ نہیں کہا کہ ادھر جائیں یا ادھر جائیں۔بلکہ کہا کہ آئیے میں آپ کو وہاں تک پہنچا آؤں اس طرح اس نے اپنے وقت سے مجھے صرف چند منٹ ہی دیئے اور گواس واقعہ کو گزرے قریباً تیس سال کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن آج تک وہ واقعہ مجھے یاد ہے کیونکہ جب ایک اجنبی ایک شخص سے ہمدردی، اخوت اور محبت کا سلوک دیکھتا تو اس کے دل پر اس کا بڑا اچھا