خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 267
خطبات ناصر جلد اول ۲۶۷ خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۶۶ء کے بیان بموجب ان کے پیرو ہونے والے تھے۔چنانچہ براہین میں اپنا ایک الہام لکھتے ہیں۔خدا تجھے برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے پھر بعد اس کے وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے ( براہین ص ۵۲۱ ) میاں بشیر احمد نے اس الہام پر اتنا اضافہ کیا ہے یہ بادشاہ تعداد میں سات تھے جس میں یہ اشارہ تھا کہ ہفت اقلیم کے فرمانروا تیرے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو کر تجھ سے برکتیں پائیں گے۔(سیرۃ المہدی جلد ۲ ص ۹۲ ) گو بادشاہوں کی متابعت کا کشف یا خواب کبھی پورا نہ ہولیکن اس سے کم از کم قادیانی صاحب کی ذہنی کیفیت، ان کے خیالات کی بلند پروازی اور ان کی اولوالعزمی کا ضرور پتہ چلتا ہے“ پس اس مضمون کی ابتداء ہے۔”خواب پریشانی اور نتیجہ ہے کہ ” بادشاہوں کی متابعت کا خواب کبھی پورا نہ ہوا اور دعوئی ان کا یہ ہے کہ یہ سلسلہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ( نعوذ باللہ ) شکم پروری کے لئے قائم کیا تا یہ سلسلہ ترقی کرتا ہوا سلطنت پر فائز ہو جائے اور دیگر حکومتیں اس میں شامل ہو جائیں اور حضور اس سے ذاتی فائدہ اٹھا ئیں۔اللہ تعالیٰ نے مخالفین کے اعتراضوں کا ایک جواب تو یہ دیا تھا کہ یہ کاروبار اور یہ سلسلہ محض توحید باری تعالیٰ کے قیام کے لئے جاری کیا گیا ہے۔چنانچہ اس پیشگوئی کی پہلی چمکا ر جو ظاہر ہوئی وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے وصال کے پچاس ساٹھ سال بعد ظاہر ہوئی۔اس صورت میں حضور کی شکم پروری کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پھر میری اور ا آپ کی بھی شکم پروری نہیں ہوتی کیونکہ یہ ملک مرکز سے ہزار ہا میل دور ہے بلکہ اس کے برعکس میں خود اور آپ بھی اپنے مالوں کا ایک حصہ اس جدو جہد میں اس لئے لگا رہے ہیں کہ افریقہ کے ان ممالک کو بت پرستی اور لامذھبی سے آزاد کرا کر انہیں تو حید کے جھنڈے تلے جمع کریں۔