خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 262
خطبات ناصر جلد اول ۲۶۲ خطبه جمعه ۲۰ مئی ۱۹۶۶ء سے ارضِ روم سے تعلق رکھنے والے ہیں۔وَ بَعْضُهُم مِّنْ بِلَادٍ لَّا أَعْرِفُهَا اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو ان ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جن کو میں نہیں جانتا۔“ پھر آپ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بتایا گیا کہ یہ لوگ تجھ پر ایمان لائیں گے اور تیرے لئے دعائیں کریں گے اور میں تجھے بہت سی برکات عطا فرماؤں گا۔حتی کہ وہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اس عبارت میں جو یہ فقرہ ہے مِنْ بِلَادٍ لَّا أَعْرِفُهَا اس کے دو معنی کئے جا سکتے ہیں۔ایک تو یہ کہ آپ کے زمانہ میں وہ ممالک تو موجود تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت آپ کو ان کا علم نہیں دیا گیا اور ایک معنی اس کے یہ بھی کئے جاسکتے ہیں کہ میرے سامنے ایسے بادشاہ لائے گئے جو ان ممالک کے سر براہ مملکت ہیں جو اس وقت موجود ہی نہ تھے۔تو مطلب یہ ہوگا کہ میں ان ممالک کو نہیں جانتا کیونکہ جس وقت یہ نظارہ مجھے دکھایا گیا اس وقت نہ وہ ملک موجود تھے اور نہ ہی ان کے سر براہ۔(۴) اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب تجلیات الہیہ (۱۹۰۶ء) میں ، اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل تحریر فرمایا کہ ” خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا۔اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اور ابتلا آئیں گے۔مگر خدا سب کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا اور خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔