خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 260
خطبات ناصر جلد اول ۲۶۰ خطبہ جمعہ ۲۰ مئی ۱۹۶۶ء مقابلہ کریں۔چنانچہ ان کے اصرار پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بٹالہ تشریف لے گئے اور مولوی محمد حسین صاحب کی مسجد میں جا کر ملے۔جہاں کچھ اور آدمی بھی موجود تھے۔اور آپس میں کچھ باتیں ہوئیں۔اس پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ایک تقریر کی اس تقریر کوسن کر جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ ظاہر ہو گیا کہ جو باتیں مولوی محمد حسین صاحب نے اپنی تقریر میں کیں ہیں وہ خلاف اسلام نہیں تو آپ نے خدا اور رسول کی خاطر بحث کا ارادہ ترک فرما دیا۔حالانکہ آپ مولوی صاحب کے مد مقابل کی حیثیت سے وہاں گئے تھے اور جن لوگوں نے آپ کو بلایا تھا انہیں آپ نے فرمایا کہ میرے نزدیک مولوی محمد حسین صاحب کی بیان کردہ باتوں میں سے کوئی ایسی بات نہیں جو خلاف اسلام ہو اس لئے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔آپ نے خدا تعالیٰ کی خاطر کامل تذلل اور انکسار کو اختیار کیا اور تذلل اور انکسار کے ایسے مقام پر آپ کھڑے ہوئے کہ امت محمدیہ میں سے کسی شخص کو انکسار اور تذلل کے اس مقام پر کھڑا ہونے کی توفیق نہ پہلے ملی اور نہ ہی کسی کو یہ توفیق آئندہ ملے گی۔تب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس وعدہ کے مطابق جو اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔مقام تذلل سے اٹھا کر اس رفعت سماوی تک پہنچا دیا کہ جس تک امت محمدیہ میں سے کوئی شخص نہ اس سے پہلے کبھی پہنچا اور نہ آئندہ کوئی پہنچے گا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا۔یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔پھر بعد اس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے۔جو گھوڑوں پر سوار تھے۔“ ( یہ ۱۸۶۸ یا ۱۸۶۹ کا واقعہ ہے۔اور بیعت ۱۸۸۹ میں ہوئی) اس کے آگے حضور فرماتے ہیں کہ چونکہ خالصاً خدا اور اس کے رسول کے لئے انکسار و تذلل اختیار کیا گیا۔اس لئے اس محسن مطلق نے نہ چاہا کہ اس کو بغیر اجر کے چھوڑے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو یہ الہام کہ میں تجھے برکت دوں گا حتی کہ بادشاہ