خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 243
خطبات ناصر جلد اول ۲۴۳ خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۶۶ء جماعتوں نے میری تحریک پر نہ صرف اپنے بجٹ کو پورا کیا بلکہ تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار روپیہ کی زائد آمد ہوئی خطبه جمعه فرموده ۶ رمئی ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔اللہ تعالیٰ سورہ تغابن میں فرماتا ہے۔فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لِانْفُسِكُمْ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ - (التغابن : ١٧ ) یعنی جتنا ہو سکے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اور اپنے مال اس کی راہ میں خرچ کرتے رہو۔وہ تمہاری جانوں کے لئے بہتر ہو گا اور جو لوگ اپنے دل کے بخل سے بچائے جاتے ہیں وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔عربی زبان میں فلاح کا لفظ بڑے وسیع معانی میں استعمال کیا جاتا ہے اور دین اور دنیا کی حسنات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔دنیا کے متعلق فلاح ان باتوں پر بولا جاتا ہے کہ انسان کو صحت والی زندگی حاصل ہو مال میں فراخی ہو اور عزت و وجاہت اور اقتدار اور ثروت سب کچھ اسے میسر ہو۔آخرۃ کے متعلق فلاح کا لفظ استعمال ہو تو اس کے معنی ہوں گے کہ انسان نے ابدی زندگی پائی جس کے بعد فنا نہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے ایسی روحانی دولت دی گئی جس کے ساتھ کوئی تنگی نہیں