خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 223 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 223

خطبات ناصر جلد اول ۲۲۳ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۶۶ء مجھے یاد آیا کہ ایک گاؤں میں ایک نابینا حافظ پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور اس نے احمدیت کو قبول کر لیا۔اس پر اس کے باپ نے اسے کہا کہ اس گاؤں سے نکل جاؤ۔اس نے کہا ، ٹھیک ہے چنانچہ وہ چلا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے کسی اور جگہ سامان پیدا کر دیا۔خدا تعالیٰ نے جب دیکھا کہ اس کا یہ بندہ آزمائش میں پورا اترا ہے اور اس نے تمام دکھ بشاشت کے ساتھ برداشت کئے ہیں اور اپنے ماں باپ کی ، رشتہ داروں کی بلکہ تمام گاؤں کی جدائی کو اس نے قبول کر لیا لیکن سچائی سے منہ نہ موڑا تو اس نے خود ہی اپنے جمالی جلوؤں کے ساتھ حالات کو بدل دیا۔اس کے باپ نے اس کو لکھا کہ تم میرے بیٹے ہو واپس آ جاؤ اس پر وہ گاؤں میں آ گیا۔اللہ تعالیٰ نے اسے بڑا اخلاص دیا ہے۔وہاں آکر اس نے جلسہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایک قریبی گاؤں کے احمدیوں کو کہا کہ میں یہاں جلسہ کروانا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا تم پہلے بھی تکلیف برداشت کر چکے ہو۔اب اور برداشت کرو گے اس نے کہا کوئی نہیں مجھے ایسی تکلیف برداشت کرنی چاہیے میں چاہتا ہوں کہ یہاں جلسہ ہو اور لوگوں کو خدا تعالیٰ کی سچی باتیں سنائی جائیں۔چنانچہ وہاں جلسہ ہوا۔ساتھ کے گاؤں میں احمدیوں کی بڑی بھاری تعداد ہے وہاں سے بہت سے لوگ بھی پہنچ گئے کچھ علماء بھی وہاں پہنچ گئے۔تقاریر ہوئیں ایک چرچا ہو گیا لوگوں نے باتیں سنیں تو کہا کہ قابل غور ہیں۔غور کرنا چاہیے خواہ مخواہ آنکھیں بند کر کے اور کانوں میں انگلیاں ڈال کر انکار نہیں کرنا چاہیے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب وہاں مذہبی تبادلۂ خیال شروع ہو گیا ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ ان میں سے بہتوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے گا۔سود یکھئے کہ وہاں ایک آدمی احمدی ہوا کچھ عرصہ تک اللہ تعالیٰ نے اس کی آزمائش کی پھر اس نے دیکھا کہ وہ امتحان میں پورا اترا ہے۔اس پر اس نے اس پر انعام کیا کہ وہ گاؤں میں پھر واپس آ گیا اور اس نے تبلیغ شروع کر دی۔نسبتاً آرام سے رہنے لگا۔تکلیف تو ہر ایک کو پہنچتی ہے ہمیں گھر بیٹھے بھی پہنچتی رہتی ہے دوسرے تیسرے دن نہایت گندی گالیوں پر مشتمل خطوط آ جاتے ہیں خط لکھنے والا اپنی جگہ بڑا خوش ہوتا ہوگا کہ میں نے بڑی گندی گالیاں دی ہیں اور ہم اپنی جگہ خوش ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس قسم کی قربانیوں کے پیش کرنے کی بھی توفیق عطا کر دی