خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 213
خطبات ناصر جلد اول ۲۱۳ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۶۶ء ہم میں سے ہر ایک کو خدا تعالیٰ کی خاطر ہر قسم کی قربانیوں کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے خطبه جمعه فرموده ۱۵ را پریل ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ العنکبوت کی مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں۔الم - أحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ - وَ لَقَد فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ لَيَعْلَمَنَّ الْكَذِبِينَ - (العنکبوت : ۲ تا ۴) پھر فرمایا۔سورۃ عنکبوت کی ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ کیا اس زمانہ کے لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کا یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں کافی ہوگا اور وہ چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا اور فتنہ میں نہ ڈالا جائے گا حالانکہ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کو ہم نے آزمایا تھا اور اب بھی اللہ تعالیٰ ایسا ہی کرے گا اور وہ ظاہر کر دے گا ان کو جنہوں نے سچ بولا اور اپنی قربانیوں سے اپنی سچائی پر مہر لگائی اور ان کو بھی جنہوں نے جھوٹ بولا جن کی زبان پر ایمان تھا لیکن ان کے دل ایمان سے خالی تھے۔انہوں نے ایمان کے تقاضوں کو پورا نہ کیا۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب کوئی قوم اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ا