خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 211
خطبات ناصر جلد اول ۲۱۱ خطبہ جمعہ ۱/۸ پریل ۱۹۶۶ء نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس سے زیادہ اہم کام مجھے بڑی تنظیم کی طرف سے ملا ہے اس لئے میں جماعتی کام کروں گا اس ذیلی تنظیم کا کام نہیں کر سکوں گا اس طرح وہ معذرت کر دیں لیکن جماعتی تنظیم سے معذرت نہ کر بیٹھیں۔یہ طریق قطعاً جائز نہیں بہر حال جماعتی کام کو ذیلی تنظیموں کے کام پر مقدم رکھنا ہوگا۔اور جہاں جہاں مجالس خدام الاحمدیہ نے قرآن کریم کے پڑھانے کا انتظام جماعتی انتظام سے علیحدہ ہو کر اپنے طور پر شروع کر دیا ہے۔وہ میری آواز پہنچتے ہی اس کام کو بند کر دیں اور اپنی خدمات جماعت کے پریذیڈنٹ یا امیر کو پیش کر دیں اور جماعتی انتظام کے ماتحت اس کام کو کریں۔قرآن کریم کا سمجھنا، اس کا فہم حاصل کرنا سب سے اہم کام ہے مگر قرآن کریم خود فرماتا ہے کہ جب مجھے سمجھنا ہو تو یاد رکھو کہ اپنے نفس کی اصلاح کے بعد میرے پاس آنا کیونکہ سوائے اس شخص کے جو پاک ہو میں کسی کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا اور اگر تم مطہر ہوئے بغیر مجھے ہاتھ لگانا چاہو گے تو مجھے خدا تعالیٰ نے یہ طاقت بخشی ہے کہ وہ ہاتھ مجھے چھونے نہیں پائے گا۔تمہارا ہاتھ مجھے اس وقت چھو سکے گا جب تم جتنا مجھے جانتے ہو۔اس پر عمل کرنے والے بھی ہو اور پھر میرے پاس اس نیت کے ساتھ آؤ کہ جو زائد علم تم مجھ سے حاصل کرو ا پنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالو گے۔یہ بڑا ہی اہم کام ہے قرآن کریم کا سمجھنا ہمارے لئے نہایت ضروری ہے۔قرآن کریم کی اشاعت کے لئے ہی ہمیں زندہ کیا گیا ہے اور ہمیں منظم کیا گیا ہے اس الہی سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے قائم ہی اسی لئے کیا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا بھر میں اس رنگ میں پھیلائیں کہ دنیا یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے کہ اگر ہم اس دنیا اور اخروی زندگی کی فلاح چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنا ہو گا۔دنیا میں قرآن کریم کی تعلیم آپ پھیلا کیسے سکتے ہیں جبکہ خود آپ کو ہی اس کا علم حاصل نہ ہو۔تو جو ہماری پیدائش کی غرض ، ہمارے قیام کی غرض اور ہماری زندگی کا مقصود ہے وہ حاصل ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ ہم خود قرآن کریم کو نہ سمجھیں اور اس کے علوم اچھی طرح ہمارے ذہنوں میں مستحضر نہ ہوں۔پس میں تمام امراء اضلاع کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے ضلع کی ہر جماعت میں قرآن کریم