خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 210 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 210

خطبات ناصر جلد اول ۲۱۰ خطبہ جمعہ ۱/۸ پریل ۱۹۶۶ء کہ اگر وہ ضرورت محسوس کریں تو وہ ان سے درخواست کر سکتے ہیں کہ بحیثیت مجلس خدام الاحمدیہ تم یہ کام کرو۔درخواست کرنے کی اجازت دینا تو دراصل امراء کو غیرت دلانے کے لئے تھا تا وہ اپنی تنظیم کو اس حد تک بہتر بنالیں کہ ان کو کبھی اس قسم کی درخواست نہ کرنی پڑے لیکن انہوں نے اس اجازت سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور جب بھی کوئی جماعتی کام ان کے سامنے آیا تو انہوں نے بجائے اس کے کہ جماعتی نظام سے کام لیتے ، آرام سے مجلس خدام الاحمدیہ کے مقامی قائد کو بلا یا اور ان سے درخواست کی کہ مہربانی کر کے یہ کام آپ کر دیں اور اس طرح وہ جماعتی نظام کو کمزور کرنے کا موجب ہوئے۔اس لئے آج سے ان کا یہ حق میں واپس لیتا ہوں جماعت کا کوئی عہد یدار اب اس بات کا مجاز نہیں ہو گا کہ وہ مجالس خدام الاحمد یہ یا مجالس انصار اللہ سے کسی قسم کی کوئی درخواست کرے۔حکم وہ دے نہیں سکتا وہ پہلے ہی منع ہے۔” درخواست کی اجازت اب واپس لے لی جاتی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ آئندہ جماعتی کام انہوں نے جماعتی نظام کے ذریعہ سے ہی کروانے ہیں۔مجلس خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ سے کبھی اس قسم کی درخواست نہ کرنا ہوگی۔فی الحال میں اس اجازت کو صرف ایک سال کے لئے واپس لیتا ہوں پھر حالات دیکھ کر فیصلہ کر سکوں گا اس کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا۔جماعتی عہد یداروں کو بھی اور ان لوگوں کو بھی جو ایک طرف احمدی ہیں اور دوسری طرف احمدی ہونے کی وجہ سے بعض مخصوص و محدود ذمہ داریاں بطور رکن مجلس خدام الاحمدیہ یا بطور رکن مجلس انصار اللہ ان پر عائد ہوتی ہیں۔میں بڑی وضاحت سے یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جماعتی کام بہر حال اہم ہیں اگر امیر جماعت یا پریذیڈنٹ بحیثیت احمدی کے انہیں کوئی حکم دے تو ان کا فرض ہے کہ وہ اس حکم کو بجالائیں۔خواہ اس حکم کی بجا آوری کے نتیجہ میں انہیں مجلس خدام الاحمدیہ کے کسی افسر کی حکم عدولی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔سرکشی تو کسی صورت میں جائز نہیں لیکن انہیں چاہیے کہ اپنی تنظیم کو اطلاع دے دیں کہ پریذیڈنٹ یا امیر نے میرے ذمہ فلاں کام لگایا ہے اس وقت مجھے وہ کام کرنا ہے۔اور اس وقت آپ نے ایک دوسرا کام میرے ذمہ لگایا تھا۔میں خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ کا وہ کام اس وقت