خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 5 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 5

خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۱۲ ؍نومبر ۱۹۶۵ء کر رکھے ہوئے تھے جن کی اشاعت بعد میں کی۔اس چیز کو دیکھ کر کہ یہ شماتت اعداء کا موجب ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی تو یہ تھا کہ میں اسلام کو تمام دنیا پر غالب کروں گا اور یہ غلبہ تین صدیوں کے اندر اندر تمہیں نظر آ جائے گا۔لیکن ہو یہ رہا ہے کہ حضور کی وفات کے بعد ابھی چھ سال نہیں گزرتے کہ جماعت میں شدید تفرقہ پڑ گیا ہے۔حتی کہ کوئی شخص ظاہری سامانوں کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہہ سکتا کہ جماعت زندہ بچ نکلے گی۔تو آپ فرماتے ہیں کہ اس وقت دشمن خوش ہے کہ احمدیوں میں اب تفرقہ پڑ گیا ہے اور یہ جلد تباہ ہو جائیں گے اور اس وقت ہمارے ساتھ زُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا (الاحزاب : ۱۲ ) والا معاملہ ہے یہ ایک آخری ابتلا ہے۔جیسے کہ احزاب کے موقعہ کے بعد پھر دشمن میں یہ جرأت نہ تھی کہ مسلمانوں پر حملہ کرے ایسے ہی ہم پر یہ آخری موقعہ اور دشمن کا حملہ ہے۔خدا تعالیٰ چاہے ہم کامیاب ہوں تو انشاء اللہ پھر دشمن ہم پر حملہ نہ کرے گا۔بلکہ ہم دشمن پر حملہ کریں گے۔نبی کریم صلعم نے احزاب پر فرمایا تھا کہ اب ہم ہی دشمن پر حملہ کریں گے اور اسے شکست دیں گے اور دشمن اب ہم پر کبھی حملہ آور نہ ہو گا۔یہ آخری ابتلا ہے۔اس سے اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔تو دشمن کو پھر کبھی خوشی کا موقعہ نہ ملے گا۔“ پہلے آپ نے فرمایا کہ دشمن اس لئے خوش ہے کہ احمدیوں میں تفرقہ پڑ گیا ہے۔یہ جلد تباہ ہو جائیں گے۔اب آپ فرماتے ہیں۔کہ دشمن کو پھر کبھی خوشی کا موقع نہ ملے گا۔یعنی دشمن کو کبھی یہ یکھنا نصیب نہ ہو گا۔کہ احمدیوں میں تفرقہ پڑ گیا ہے۔اور ان کی تباہی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں:۔جنگیں تو احزاب کے بعد میں بھی ہوتی رہی ہیں لیکن پھر دشمن کو یہ حوصلہ نہیں ہوا کہ مسلمانوں پر حملہ آور ہو۔اسی طرح یہ آخری فتنہ ہے۔پس تم دعا میں لگ جاؤ۔یہ فتنہ احزاب والا ہے جس طرح وہاں صحابہ رضوان اللہ علیہم کی حالت تھی وہی اب یہاں ہماری حالت ہے۔اور جو اس وقت دشمن کی حالت ہوئی۔وہی اب دشمن کے ساتھ ہوگی۔تمہیں چاہیے کہ تم آگے بڑھو۔دعاؤں میں لگ جاؤ۔‘