خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 4 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 4

خطبات ناصر جلد اوّل ۴ خطبہ جمعہ ۱۲/ نومبر ۱۹۶۵ء رحمتیں حاصل کرنا چاہتے ہو۔اگر تم اس بات کے خواہش مند ہو کہ خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے فضلوں اور اس کی برکتوں اور اس کی حفاظت اور اس کی امان کا ہاتھ تمہارے سروں پر رہے تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم ایک ہاتھ پر بیعت کر کے جمع ہو جاؤ۔جب انہوں نے دیکھا کہ اس مسئلہ میں بھی اکثریت ہماری رائے کے خلاف ،صداقت پر مضبوطی سے قائم ہے تو پھر انہوں نے تیسرا مؤقف اختیار کیا۔اور وہ یہ کہ بے شک خلیفہ کا انتخاب کرو اور خلیفہ بنالو۔بے شک اس کی بیعت کو بھی لازمی قرار دے لو ہم بیعت کر لیں گے لیکن وہ خلیفه صدرانجمن کا حاکم نہیں ہوگا بلکہ اگر تم نے خلیفہ بناناہی ہے تو صدرانجمن احمدیہ کے ماتحت خلیفہ مقرر کرو۔یہ اس قدر مضحکہ خیز بات تھی کہ کوئی سمجھدار انسان اس کو اختیار کرنے کے لئے تیار ہی نہ تھا۔اس وقت جس تڑپ کے ساتھ ، جس درد کے ساتھ ، جس عاجزی اور انکسار کے ساتھ ،جس علم وفراست کے ساتھ اس محاذ پر حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ جنگ لڑی اسے دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک زبر دست بشارت آپ کو دی اور وہ یہ تھی کہ ہم تمہیں یہ توفیق دیں گے کہ تم خلافت کو جماعت احمد یہ میں اس قدر مستحکم کر دو گے کہ آئندہ اس قسم کا فتنہ جو مارچ ۱۹۱۴ء میں جماعت میں پیدا ہوا پھر کبھی پیدا نہ ہو گا۔۱۹۱۴ء میں آپ کو کچھ معلوم نہیں کہ کتنی زندگی ہے۔دس سال بیس سال پچاس سال باون سال کتنی دیر خلافت کرنی ہے۔اس کے بعد کیا حالات ہوں گے۔اپنے حالات کا بھی کوئی پتہ نہیں۔اور پھر اس کے بعد جو خلیفہ ہو گا وہ جب مرے گا تو اس کے بعد کیا حالات ہوں گے یہ بھی نہیں جانتے۔یہ انسان کا کام نہیں۔جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم نہ دیا جائے۔اس کے باوجود ۱۹۱۴ ء میں حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ لکھا ذرا غور سے سنیں۔اس وقت دشمن خوش ہے کہ احمدیوں میں اب تفرقہ پڑ گیا ہے“۔یہ جنگ ہورہی تھی۔یہ جھگڑا تھا کہ خلیفہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے۔حضور رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے کہ خلیفہ ہونا چاہیے۔اور ان لوگوں نے تو وقت سے پہلے ہی خلافت کے خلاف ٹریکٹ چھپوا