خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 3
خطبات ناصر جلد اوّل خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۶۵ء کوئی فرق نہیں پڑتا اس سے کہ کون خلیفہ بنتا ہے اور کون نہیں بنتا۔لیکن خلافت کو مضبوطی سے پکڑنا چاہیے۔کیونکہ اس کے بغیر نہ ہی جماعت ترقی کر سکتی ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بن سکتی ہے۔لیکن کسی طرح بھی یہ لوگ اس طرف نہ آئے۔جب آئے تو انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اچھا کوئی شخص خلیفہ مقرر ہو جائے لیکن اس کی بیعت جماعت پر لازمی قرار نہ دی جائے۔یہ دوسرا مؤقف تھا جو انہوں نے اختیار کیا۔خدائے تعالیٰ کا تصرف ایسا تھا کہ اس قسم کی باتیں یہ لوگ خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی زندگی میں بھی کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ اول کے منہ سے ہی ان کو جواب دے دیا تھا۔چنانچہ ایک موقع پر اسی قسم کا اعتراض کیا گیا تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیاوہ اخبار بدر ۱۳ مارچ ۱۹۱۰ء میں چھپ چکا ہے۔’ایک صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں لکھا کہ کیا آپ کی بیعت لازم اور فرض ہے؟ فرمایا کہ جو حکم اصل بیعت کا ہے وہی فرع کا حکم ہے۔کیونکہ صحابہ کرام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دفن کرنے سے پہلے اس بات کو مقدم سمجھا اور کیا کہ خلیفہ 66 کے ہاتھ پر بیعت کریں۔“ اسی طرح 9 جولائی ۱۹۰۸ ء کے اخبار بدر میں جو ڈائری شائع ہوئی ہے اس میں ہمیں یہ ملتا ہے کہ آپ نے یہ فرمایا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ جب ہم حضرت میرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود اور مہدی مسعود مانتے ہیں تو اب علا مہ نورالدین کی بیعت کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔۔ہر شخص اپنی ذات کے لئے خود ذمہ دار ہے۔۔۔ہر ایک کو بیعت کے لئے خط لکھنا چاہیے تا وہ اس فیض سے حصہ لے جویدُ اللهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ میں مذکور ہیں۔“ مطلب واضح ہے کہ اگر تم خلافت کی بیعت نہیں کرو گے اور ویسے ہی اپنی چالا کیوں اور ہشیاریوں میں پڑے رہو گے تو پھر تمہیں وہ فضل حاصل نہیں ہو سکتا۔جویدُ اللهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے یعنی خدا تعالیٰ اپنی رحمت کا ہاتھ ، خدا تعالیٰ اپنی حفاظت کا ہاتھ ، خدا تعالیٰ اپنی امان کا ہاتھ ، خدا تعالیٰ اپنی برکتوں کا ہاتھ تمہارے سر پر سے اُٹھالے گا۔اگر تم خدا تعالیٰ کی 66