خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 166
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۶۶ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء اس نے اپنے مزید اموال خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کر دیئے۔وصیت کا چندہ دینے والوں نے تحریک جدید کے چندہ میں بھی بشاشت اور خوشی کے ساتھ حصہ لیا۔تحریک جدید کا چندہ دینے والوں نے وقف جدید کے چندوں میں بھی خوشی اور بشاشت کے ساتھ حصہ لیا پھر تحریک جدید اور وقف جدید کے سوا دوسرے لازمی چندے دینے والوں نے ان چندوں میں بھی بڑی بشاشت سے حصہ لیا جو محض وقتی نوعیت کے تھے۔مثلاً باہر کے ملکوں میں مساجد کی تعمیر ہے۔مساجد کی تعمیر کے سلسلہ میں ہماری بہنوں نے ہی دنیا کو بڑا اچھا نمونہ دکھایا ہے اور رہتی دنیا تک ایک مومن کے دل میں ان کا نام بڑے فخر کے ساتھ یادر ہے گا اور مومنوں کی دعائیں انہیں ہمیشہ حاصل ہوتی رہیں گی ابھی پچھلے جمعہ میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ اگر چہ جماعت قربانیوں میں ہر سال پہلے کی نسبت ترقی کرتی ہے لیکن وعدے لکھوانے میں بعض دفعہ سستی کرتی ہے اور اس طرح نہ صرف خود نقصان اٹھاتی ہے بلکہ مرکز کو بھی پریشان کرتی ہے۔چنانچہ اس سال بھی اس نے تحریک جدید کے وعدے لکھوانے میں سستی کی ہے جس سے مرکز پریشانی کا شکار ہو رہا ہے۔میں نے جماعت سے کہا تھا کہ وہ اس طرف فوری توجہ دے وعدوں کی آخری میعاد جلد ختم ہو رہی تھی لیکن میں نے کہا تھا کہ میں اہل ربوہ کو وعدوں کے لکھوانے کے لئے مزید مہلت نہیں دوں گا۔باہر چونکہ میری آواز دیر میں پہنچے گی اس لئے باہر کی جماعتوں کو میں ایک ہفتہ کی مہلت دوں گا۔آج جب مجھے یہ رپورٹ ملی کہ اہلِ ربوہ نے ان چند دنوں میں اپنے تحریک جدید کے وعدے پچھلے سال سے کچھ اوپر کر دیئے ہیں اور ابھی وعدے لکھوائے جا رہے ہیں تو میرے دل میں خدا تعالی کی بڑی حمد پیدا ہوئی انشاء اللہ امید ہے کہ اہل ربوہ ابھی وعدوں کے سلسلہ میں اور آگے بڑھ جائیں گے اسی طرح راولپنڈی سے بھی آج صبح ہی رپورٹ ملی ہے کہ وہاں کی جماعت نے پچھلے سال سے زائد رقم کے وعدے بھجوا دیئے ہیں اور ابھی وعدے لئے جارہے ہیں تا پچھلے سال کی نسبت ان کی قربانیاں زیادہ ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو پہلے کی نسبت زیادہ حاصل کر سکیں۔اس چیز کو دیکھ کر دل میں اللہ تعالیٰ کی بڑی ہی حمد پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ہم پر یہ فضل کیا کہ ہم پہلے کی نسبت اس کی راہ میں زیادہ اموال خرچ کرنے کی توفیق پارہے ہیں