خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 160
خطبات ناصر جلد اول 17۔خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء جاتی ہے اور اسے مستقیم نہیں کہا جا سکتا اور جب تک وہ چیز اپنی فطرت پر قائم نہ رہے یا وہ اپنی بناوٹ اور طبعی حالت کو قائم نہ رکھے۔وہ اپنے اندر کمالات پیدا نہیں کر سکتی اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو ایک حد تک درجہ کمال حاصل کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔وہ جب پیدا ہوتی ہے کمال کے حصول کی قوتیں اس کے اندر موجود ہوتی ہیں لیکن اس میں کمال پایا نہیں جاتا۔دنیا کی کسی چیز کو لے لو وہ ایک خاص زمانہ گزرنے کے بعد ایک خاص ماحول میں سے گزرنے کے بعد اور پھر ایک خاص تربیت کے بعد اپنے کمال کو پہنچتی ہے۔درختوں کو ہی لے لو ایک درخت لگایا جاتا ہے تو اسے لگانے سے پہلے اس کے لئے زمین تیار کی جاتی ہے۔اس درخت کے اندر اللہ تعالیٰ نے نشوونما کی قو تیں تو رکھ دی ہیں مگر جب تک ان قوتوں کو بروئے کار نہ لایا جائے وہ اپنے کمال کو نہیں پہنچ سکتا اور ان قوتوں کو بروئے کارلانے کے لئے ہمیں اس کے لئے زمین کو تیار کرنا پڑتا ہے۔پھر یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کوئی غیر چیز زمین کی اس قوت کو کھینچ کر نہ لے جائے۔جسے اس درخت نے حاصل کرنا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک اچھا باغبان درخت کی جڑوں کے پاس سے ہمیشہ جڑی بوٹیاں اور گھاس نکالتا رہتا ہے اور ملائی کرتا رہتا ہے پھر اس درخت کے لئے ضروری ہے کہ اسے وقت کے ندر پانی دیا جائے اور اگر کوئی درخت زمین سے نشو و نما حاصل کر چکا ہوتا ہے اور اب اس میں مزید طاقت باقی نہیں رہتی جو وہ اس درخت کو پہنچائے تو باہر سے کھاد ڈالی جاتی ہے تا وہ درخت اپنے کمال کو پہنچ جائے اسی طرح انسانی فطرت اسی وقت کمالات حاصل کرتی ہے اور کر سکتی ہے جب اس کا ماحول اور اس فطرت کا رکھنے والا اپنی توجہ کو اس طرف رکھے کہ جس رنگ میں میرے رب نے میری فطرت صحیحہ کو پیدا کیا ہے اسی رنگ میں میں اسے رکھوں اور جو چیزیں اور جو باتیں اللہ تعالیٰ نے فطرت صحیحہ کی نشو و نما کے لئے ضروری قرار دی ہیں ان کا خیال رکھوں اور استقامت کے مقام سے پرے نہ ہٹوں بلکہ جو چیز ہے وہ اسی طرح رہے جس طرح وہ بنائی گئی ہے یعنی خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنے والی فطرت شیطانی وسوسوں کی طرف متوجہ نہ ہو اور وہ خدا تعالیٰ کی ہر آواز پر لبیک کہتی رہے اور اس کے حضور ہمیشہ جھکی رہے۔تب وہ فطرت جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا مظہر بنانے اور اسے عبودیت کا بلند مقام عطا کرنے کے لئے پیدا کیا ہے اپنے کمالات کو