خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 161
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۶۱ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء پہنچ سکتی ہے لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ اکثر لوگ بعض اوقات نیکی کے رستہ سے ہٹ جاتے ہیں اور وہ نیک اعمال کے ساتھ ساتھ کچھ بدیوں کے بھی مرتکب ہو جاتے ہیں۔پس سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے مومن کے لئے نجات کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا جاتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ایسے مومن کے لئے اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل اور رحمانیت سے یہ دروازہ کھولا ہے کہ جب بھی اس سے کوئی غلطی ہو وہ اس کا اقرار کرے اور پھر پختہ نیت کے ساتھ یہ عہد کرے کہ آئندہ وہ اس غلطی کا مرتکب نہیں ہوگا اور پھر پوری کوشش کرے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسی غلطیوں سے بچتا ر ہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر اس خلوص نیت کے ساتھ تم تو بہ کر کے میرے سامنے آؤ گے تو چونکہ میں غفور ہوں اس لئے تمہارے تمام گناہ معاف کر دوں گا اور جتنا اور جس قدر تم استقامت کے مقام سے ہٹ گئے تھے۔میں تمہیں پھر اسی مقام کی طرف لوٹا کر لے آؤں گا کیونکہ جب گناہ معاف ہو گئے تو گناہ گار پوری طرح نیک بن گیا۔گناہ نے اسے استقامت کے مقام سے پرے ہٹایا تھا۔لیکن خدا تعالیٰ نے اسے اٹھا کر پھر صحیح مقام پر کھڑا کر دیا۔غرض اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات غفور اور تو اب کی وجہ سے اور پھر انسان پر رحم کرتے ہوئے اس کے لئے تو بہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور وہ اپنے بندہ سے کہتا ہے اے میرے بندے ! تم سے جب بھی کوئی غلطی ہو تم اس کا اعتراف کرتے ہوئے تو بہ کرو پھر ندامت کا احساس دل میں پیدا کرو میرے حضور تضرع اور تذلل سے جھکو اور مجھ سے یہ امید رکھو۔عَسَى اللهُ اَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ کہ میں تمہاری توبہ قبول کروں گا۔جب خدا تعالیٰ کے لئے عسی کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس کے معنی ہوتے ہیں تم یہ امید رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تو بہ کو قبول کرے گا یعنی یہ لفظ انسان کی امید پر دلالت کرتا ہے۔پس عسى الله أَن يَتُوبَ عَلَيْهِم خدا تعالیٰ کہتا ہے اگر تم اس ذہنیت اور اس نیت کے ساتھ میرے سامنے آؤ گے تو میں تمہاری تو بہ کو قبول کرلوں گا اور تمہیں صراط مستقیم پر لا کھڑا کروں گا۔تمہاری جو فطری اور طبعی حالت ہے وہ تمہیں حاصل ہو جائے گی اور اس طرح تم ان بلندیوں اور کمالات کو حاصل کر سکو گے جن کےحصول کے لئے میں نے تمہیں پیدا کیا ہے لیکن بلندیوں کا حصول محض ترک گناہ یا گنا ہوں