خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 157 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 157

خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء اگر ہم قربانیوں میں حصہ لیتے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے قلوب میں بشاشت اور تسکین پیدا کرے گا خطبه جمعه فرموده ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَ أَخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَ أَخَرَ سَيْئًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ تُطَهَّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَنَّ لَهُمْ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ - (التوبة : ١٠٢، ١٠٣) یعنی کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا۔انہوں نے نیک عملوں کو کچھ اور عملوں سے جو بڑے تھے ملا دیا۔انہوں نے اپنے رب سے یہ امید رکھی کہ وہ ان کی توبہ قبول کرے گا۔اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اے رسول اور وہ جو اس دنیا میں بطور اس کے اظلال کے پیدا ہوتے رہیں گے۔ان کے مالوں میں سے صدقہ لے تاکہ تو انہیں پاک کرے اور ان کی ترقی کے سامان پیدا کرے اور ان کے لئے دعائیں بھی کرتا رہ۔کیونکہ تیری دعا ان کی تسکین کا موجب ہے اور اللہ تعالیٰ تیری دعاؤں کو بہت سننے والا اور حالات کو جاننے والا ہے۔ان آیات سے پہلے منافقوں کا ذکر ہے جن سے بظا ہر کچھ نیک کام بھی سرزد