خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 152
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۵۲ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۶۶ء لیکن اللہ تعالیٰ اس سے برکت چھین لیتا ہے وہ جہاں بھی ہاتھ ڈالتا ہے اسے نقصان ہی نقصان ہوتا ہے اس کی مالی حالت تباہ ہو جاتی ہے اور وہ مفلس و قلاش ہو جاتا ہے ابھی چند دن ہوئے ایک دوست مجھے ملنے کے لئے آئے۔وہ تاجر ہیں انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک وقت تھا اللہ تعالیٰ نے میرے اموال اور میرے کاروبار میں برکت ڈال دی تھی اس نے مجھے وافر رزق دیا تھا اور اس قسم کے حالات پیدا کر دیئے تھے کہ میں جو بھی کام کرتا رہا اس کے نتیجہ میں مجھے مال میں فراخی نصیب ہوئی لیکن اب اس قسم کے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ گو کام میں اب بھی وہی کرتا ہوں جو پہلے کرتا تھا لیکن اب مجھے وہ نفع نہیں ہوتا جو پہلے ہوتا تھا۔غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اصل قادر ذات جو اپنے ارادہ کے ساتھ اس دنیا میں تصرف کر رہی ہے وہ میری ہی ذات ہے اور کوئی نہیں میں ہی ہوں جو تقسیم پیداوار کے سلسلہ میں ایسی تاریں ہلا دیتا ہوں کہ ایک شخص کے پاس وہی کاروبار ہوتا ہے وہی سر ما یہ ہوتا ہے لیکن اس قسم کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ پہلے وہ بہت کما رہا ہوتا ہے اور اب وہ کم کمانے لگ جاتا ہے۔اس کی برکت اللہ تعالیٰ کسی دوسرے کو دے دیتا ہے اور اس کو حاصل ہونے والا نفع اب دوسرے کو ملنا شروع ہو جاتا ہے۔لاہور میں ہم کچھ عرصہ رہے ہیں وہاں ہم نے دیکھا کہ کبھی کوئی ریسٹورنٹ مقبول ہو جا تا تھا اور کبھی کوئی ایک ریسٹورنٹ کی مینجمنٹ (Management) اور انتظام بھی وہی ہوتا تھا۔عمارت بھی وہی ہوتی تھی۔فرنیچر بھی وہی ہوتا تھا باقی سہولتیں بھی وہی ہوتی تھیں۔اس کے کھانا پکانے والے بھی وہی ہوتے تھے اور ایک عرصہ تک وہ ہوٹل اپنے مالکوں کے لئے بہت زیادہ آمد کا موجب بنا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکدم کوئی ایسی تبدیلی پیدا ہو جاتی جو انسان کے اختیار اور سمجھ سے باہر ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی مقبولیت جاتی رہی۔لوگوں نے وہاں جانا چھوڑ دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ مالک کو وہ ہوٹل بند کرنا پڑا اگر انسان اپنے ماحول پر گہری نظر ڈالے اور فکر وتدبر سے کام لے تو اسے اس قسم کی سینکڑوں مثالیں مل سکتی ہیں کوئی ظاہری سبب نظر نہیں آتا لیکن یکدم برکت چھن جاتی ہے۔اسی طرح بعض اوقات اموال اور کاروبار میں برکت دے دی جاتی ہے اور اس کا کوئی ظاہری سبب نہیں ہوتا۔ایک انسان عرصہ تک ابتلا اور مصائب میں مارا مارا پھرتا ہے