خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 147
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۴۷ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۶۶ء بعض ایسی جماعتیں ہوں جہاں افراد نے وعدے تو لکھوا دیئے ہوں لیکن جماعت کے عہد یداروں نے وہ وعدے دفتر کو نہ بھجوائے ہوں۔اگر کوئی ایسی جماعت ہے جس کے افراد نے وعدے لکھوا دیئے ہوں لیکن وہ وعدے دفتر کو نہیں بھجوائے گئے تو ایسی جماعت کو چاہیے کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدے دفتر کو بھجوا دے۔مجھے دفتر وکالت مال کی طرف سے یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ میں وعدوں کی وصولی کی تاریخ ۲۸ فروری کی بجائے ۲۵ / مارچ کر دوں لیکن میں اپنے بھائیوں پر بدظنی نہیں کرنا چاہتا اس لئے میں وعدوں کی وصولی کی تاریخ ایک ہفتہ سے زیادہ نہیں بڑھانا چاہتا۔جہاں تک ربوہ کا سوال ہے دوست اگر اس طرف توجہ کریں تو وہ مقررہ میعاد کے اندراندر اپنے وعدے لکھوا سکتے ہیں اس لئے جہاں تک ربوہ کا سوال ہے میں وعدوں کی وصولی کی تاریخ ۲۸ فروری سے ایک دن بھی نہیں بڑھاتا وہ بہر حال اپنے وعدے ۲۸ فروری سے پہلے پہلے لکھوا دیں لیکن جہاں تک باہر کی جماعتوں کا سوال ہے ان تک میری آواز پہنچنے میں دیر لگے گی اس لئے میں انہیں ایک ہفتہ اور دیتا ہوں اس عرصہ میں تمام جماعتیں اپنے وعدے مرکز میں ضرور پہنچا دیں ورنہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ثواب کے ایک حصہ سے وہ محروم نہ ہو جا ئیں۔دوسری بات جس کی طرف میں اس خطبہ میں جماعت کو تو جہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ ایک موقع پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خدام کو تحریک جدید کے سلسلہ میں ایک نصیحت فرمائی تھی اور ارشادفرمایا تھا کہ میں نے صدر مجلس خدام الاحمدیہ کا بار اسی لئے اٹھایا ہے (ایک زمانہ میں حضور صدر مجلس خدام الاحمدیہ کے فرائض خود انجام دیتے رہے ہیں ) تا جماعت کے نوجوانوں کو دین کی طرف توجہ دلاؤں۔سو میں سب سے پہلے ان کے سپرد یہ کام کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے ایمان کا ثبوت دیں گے اور آگے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور کوئی نوجوان ایسا نہیں رہے گا جو دفتر دوم میں شامل نہ ہو اور کوشش کریں کہ ساری کی ساری رقم وصول ہو جائے۔‘“