خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 148
خطبات ناصر جلد اول اسی طرح فرمایا:۔۱۴۸ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۶۶ء امید کرتا ہوں کہ دوست اپنے بقائے بھی ادا کریں گے اور پہلے سے زیادہ وعدے بھی لکھوائیں گے اور خدام الاحمدیہ کوشش کریں کہ کوئی نوجوان ایسا نہ رہے جس نے تحریک جدید دفتر دوم میں حصہ نہ لیا ہو اور پھر کوئی رقم ایسی نہ رہے جو وصول نہ ہو۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان جو اپنے آپ کو خدام الاحمدیہ کہتے ہیں حضرت مصلح موعود کے اس ارشاد پر کان دھریں گے اور اپنے عمل سے ثابت کر دیں گے کہ حضور نے جو ا میدان سے وابستہ کی تھی وہ اسے پورا کرنے والے ہیں۔اس سلسلہ میں مجھے دو ہفتہ کے بعد رپورٹ آجانی چاہیے میں انہیں رپورٹ تیار کرنے کے لئے ایک ہفتہ کی مہلت مزید دیتا ہوں لیکن کام کے لئے زیادہ وقت نہیں دے سکتا۔تیسری بات جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو اموال خرچ کئے جاتے ہیں ان پر خرچ کا لفظ بولنا حقیقتا درست اور صحیح نہیں خرچ وہ رقم ہوتی ہے جو آپ کے ہاتھ سے نکل جائے اور ختم ہو جائے لیکن جو اموال اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیئے جاتے ہیں وہ نہ تو کسی کے ہاتھ سے نکلتے ہیں اور نہ ختم ہوتے ہیں بلکہ وہ ہر آن اور ہر لحظہ بڑھتے چلے جاتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ایک فارسی شعر میں اس مسئلہ کی طرف نہایت لطیف پیرایہ میں متوجہ کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔ز بذل مال در راہش کسے مفلس نے گردد خدا خود مے شود ناصر اگر ہمت شود پیدا یعنی اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کرنے والے کو مفلس نہیں رہنے دیتا وہ اسے بھوکا نہیں مارتا اگر وہ اپنے مال کا ایک بڑا حصہ بھی اس کی راہ میں دے دیتا ہے بلکہ اگر وہ سارے کا سارا مال بھی اس کی راہ میں دے دیتا ہے تب بھی وہ اسے بھوکا نہیں رہنے دیتا۔کئی مواقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کھانے پینے کے تمام سامان لے لئے جنگوں کے سلسلہ میں بعض دفعہ آپ ہر شخص سے جو کچھ کھانے پینے کے لئے اس کے پاس ہو تا لے لیتے ان مواقع میں سے کسی موقع پر بھی