خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 136 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 136

خطبات ناصر جلد اوّل ۱۳۶ خطبه جمعه ۱۱ار فروری ۱۹۶۶ء شخص حقیقتا یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بن کر میں نے ان تمام خوبیوں کو اپنے نفس کے اندر جمع کرنا ہے اور تمام دنیوی اور روحانی مدارج ارتقاء کو طے کرتے ہوئے فطرت کے سارے تقاضوں کو بہ کمال حاصل کرنا ہے یعنی خدا تعالیٰ کا بندہ کامل بن جانا ہے۔تو وہ یہ ہرگز برداشت نہیں کر سکتا کہ وہ تمام بھلائیاں جو اسے حاصل ہیں۔اس کے بیوی بچوں اور دوسرے عزیزوں کو حاصل نہ ہوں۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندرا اپنی ایک صفت ربوبیت بھی رکھی ہے۔اب انسان ان تمام صفات کا جو خدا تعالیٰ نے اس کے اندر رکھی ہیں اپنے کمالات کے ساتھ مظہر بن ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ ربوبیت کی صفت کا مظہر نہ ہو یعنی وہ اس خیر کو جو اس کے اندر پائی جاتی ہے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں تک نہ پہنچائے۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِہ کہہ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ ہم میں سے ہر اس شخص کے لئے جو خدا تعالیٰ کی عطا کردہ صفات کو بروئے کار لاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات میں اس کا مظہر کامل بنتا ہے۔ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی فکر کرے اور وہ ان کی صحیح رنگ میں تربیت کرنے والا ہو کیونکہ جو شخص اپنی اولا د اپنے رشتہ داروں اور اپنے خاندان (اصل میں یہ سب شامل ہیں ) کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔وہ خود اپنے عمل سے اس پر مہر لگا دیتا ہے کہ وہ ان تمام صفات حسنہ کو کام میں نہیں لگا رہا جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کی ہیں بلکہ وہ ان میں سے بعض صفات کو نظر انداز کر رہا ہے۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب تک تم اپنی اولاد اپنے رشتہ داروں اور اپنے خاندان کی صحیح تربیت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔تم اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتے جس کے حصول کے لئے انسان کی پیدائش کی گئی ہے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان خیر کیسے بن سکتا ہے یا ہم کن راہوں پر چل کر خیر کو حاصل کر سکتے ہیں یا ہمیں خیر کہاں سے مل سکتی ہے اس کا سادہ جواب یہی ہے کہ یہ چیز قرآن کریم سے حاصل ہوتی ہے۔قرآن کریم کا ایک لفظی خلاصہ خود قرآن کریم میں "خیر" کہا گیا ہے۔قرآن کریم میں ہے مَاذَا انْزَلَ رَبُّكُمُ (النحل: ۳۱) جب مسلمانوں سے سوال کیا جاتا ہے کہ تمہارے ربّ نے کیا اُتارا۔قَالُوا خَيْرًا (النحل : ۳۱) وہ کہتے ہیں خیر۔گویا ”خیر کے لفظ میں قرآن کریم کا