خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 122
خطبات ناصر جلد اول ۱۲۲ خطبہ جمعہ ۴ فروری ۱۹۶۶ء تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ فی الواقعہ یہ قوم بڑی عظمت والی ہے انہوں نے قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کیا اور اس کے نتیجہ میں قرآن کریم کی رفعتوں کے طفیل اس قوم کو بھی رفعتیں حاصل ہوئیں اور اس قدر رفعتیں انہیں نصیب ہوئیں کہ آسمان کے ستاروں کی رفعتیں بھی ان کے مقابلہ میں بیچ نظر آنے لگیں اور وہ ان بلندیوں پر پہنچ گئی۔جن تک دنیوی عقل کو رسائی حاصل نہیں اور انہوں نے وہ کچھ حاصل کر لیا جو انسان اپنی کوشش اپنی جد و جہدا اپنی عقل اور اپنی فراست سے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔اسلام کی پہلی تین صدیوں میں ہمیں یہی نظارہ نظر آتا ہے کہ قرآن کریم پر عمل کرنے والے دنیوی زندگی کے ہر شعبہ میں قائد سمجھے جاتے تھے وہ اسی کی برکت سے دنیا کے لیڈر بنے وہ اسی کے طفیل دنیا کے استاد بنے ، دنیا کے محبوب بنے ، اس لئے کہ قرآن کریم نے ان کی طبائع کو اسی طرح بدل دیا تھا کہ دنیا ان سے پیار اور محبت کرنے پر مجبور ہوگئی۔لیکن تین صدیوں کے بعد مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ انہوں نے قرآن کریم سے جو کچھ حاصل کرنا تھا کر لیا ہے۔جو کچھ قرآن کریم سے انہوں نے پانا تھا پا لیا ہے اب انہیں نہ قرآن کریم پڑھنے کی ضرورت ہے اور نہ اسے سمجھنے کی حاجت ہے وہ خام عقل اور دنیوی فراست جو انہیں محض اس لئے دی گئی تھی کہ وہ اس الہی پیغام کو سمجھنے میں ممد اور معاون بنے۔الٹا قرآن کریم کو چھوڑ کر انہوں نے صرف اس پر انحصار کر لیا۔تب خدا تعالیٰ نے یہ نظارہ بھی دکھایا کہ وہ قوم جو دنیا پر ہر طرح سے چھا گئی تھی اور اس نے اقوامِ عالم سے اپنی برتری کا سکہ منوالیا تھا قعر مذلت میں گر پڑی اور اس نے اس قدر ذلتیں اور رسوائیاں اُٹھا ئیں کہ آلْآمَانِ وَالْحَفِيظ - اب اللہ تعالیٰ نے پھر محض اپنے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرما کر ہمیں قرآن کریم سے متعارف کرایا ہے۔آپ نے ہمیں ان تمام خوبیوں کا علم پہنچایا ہے جو قرآن کریم میں پائی جاتی تھیں اور ہمیں ان کی طرف متوجہ کیا ہے۔چنا نچہ آپ فرماتے ہیں۔جمال و حسن قرآں نور جان ہر مسلماں ہے ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے که قرآن کریم کے حسن ، اس کی خوبصورتی اور اس کی دل کو موہ لینے والی تعلیم سے ایک