خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 121
خطبات ناصر جلد اول ۱۲۱ خطبہ جمعہ ۴ فروری ۱۹۶۶ء قرآن کے سیکھنے اور سکھانے کے لئے ہمیں غیر معمولی توجہ اور خاص جد و جہد کرنی چاہیے خطبه جمعه فرموده ۴ فروری ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے دنیوی اور روحانی ترقیات حاصل کی تھیں تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے قرآن کریم کو وہ عظمت دی تھی جس کا اسے حق حاصل تھا۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے ایک کامل کتاب نازل کی تھی اور انہوں نے اس کی قدر کی۔انہوں نے اسے پڑھا اور ان میں سے بہتوں نے اسے حفظ کیا اور اسے سمجھنے کی کوشش کی اور نہ صرف کوشش کی بلکہ اس کے سمجھنے کے لئے ہر ممکن تدبیر کے علاوہ دعاؤں کا سہارا اور اس طرح انہوں نے قرآن کریم کے علوم اپنے رب سے سیکھے اور اس نیت سے سیکھے کہ اس کے نتیجہ میں وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں۔انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ خدا تعالیٰ کی یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ وہ اس پر عمل کریں اور انہیں یقین تھا کہ اگر وہ اس پر عمل کریں گے تو اس دنیا میں بھی وہ خدا تعالیٰ کے افضال اور اس کی رحمتیں حاصل کریں گے اور اُخروی زندگی میں بھی وہ ان کے وارث ہوں گے اور جب انہوں نے قرآن کریم کی پاک تعلیم سیکھنے کے بعد اس پر عمل کیا تو قرآن کریم کے طفیل جو بڑی عظمت والی کتاب ہے انہیں اس دنیا میں بھی بڑی عظمت حاصل ہوئی اپنے تو اپنے ہی تھے غیر بھی اس بات کو