خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 102 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 102

خطبات ناصر جلد اول ۱۰۲ خطبہ جمعہ ۲۱ جنوری ۱۹۶۶ء حال ہے۔پس جہاں تک عبادت کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے خزائن بھرے پڑے ہیں۔خدا تعالیٰ کو ہماری عبادت کی نہ خواہش ہے اور نہ اسے اس کی کوئی ضرورت پیش آسکتی ہے کیونکہ اس نے ہمیں بتایا ہے کہ اس نے اربوں ارب مخلوقات کو ہر وقت اپنی عبادت ، تسبیح اور تحمید میں لگایا ہوا ہے۔اس کی ہر مخلوق اس کے حکم کے مطابق اس کی عبادت اور اطاعت میں اپنی زندگی کے دن گزار رہی ہے۔اس لئے اسے نہ تمہاری عبادت کی پرواہ ہے اور نہ اسے اس کی ضرورت ہے لیکن ہمیں اپنی جسمانی اور روحانی حیات کے لئے اس کی اطاعت اور عبادت کی ضرورت ہے۔ہماری کتب میں ایک واقعہ حضرت ابو یزید بسطامی کے متعلق آتا ہے اس سے ہمیں بڑا اچھا سبق ملتا ہے۔حضرت ابو یزید بسطامی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے نفس کو ہر تکلیف میں ڈالا اور دن اور رات خدا تعالیٰ کی عبادت میں گزارے اور یہ سلسلہ ۳۰ سال تک چلتا چلا گیا۔ان تیس سالوں میں میں نے دن کی گھڑیوں کو بھی خدا تعالیٰ کی عبادت میں گزارا اور رات کو بھی اسی کے لئے قیام کیا۔میں نے اس کی خاطر اپنے نفس کو ہر مشقت میں ڈالا۔یعنی میں بہت ہی کم سو یا اور بہت ہی کم خوراک استعمال کی اور ہر قسم کی ریاضت کی، لیکن ان تیس سال کی عبادت کے بعد ایک دن ایک وجود میرے سامنے آیا اور اس نے مجھے کہا، اے ابو یزید ! اللہ تعالیٰ کے خزانے عبادت سے بھرے پڑے ہیں۔ان میں اگر تمہاری عبادت شامل نہ بھی ہو تب بھی ان میں کوئی فرق نہیں پڑتا، تم محض ان عبادتوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتے۔فَإِنْ أَرَدْتَ الْوُصُولَ اِلَيْهِ اگر تم اس تک پہنچنا چاہتے ہو تو فَعَلَيْكَ بِاللَّلَّةِ وَالْإِحْتِقَارِ وَالْإِخْلَاصِ فِي الْعَمَلِ تمہیں اپنے اندر عاجزی، ذلت ، تواضع اور اپنے آپ کو حقیر سمجھنے کی ذہنیت پیدا کرنی چاہیے۔تمہیں خدا تعالیٰ کے قرب اور اس کی رضا کے حصول کے لئے بہر حال یہ رستہ اختیار کرنا پڑے گا اور پھر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرنا ہو گا اور اسلامی اصطلاح کی رو سے اخلاص کے لفظ کے معنی ہی یہ ہیں کہ ہم عبادت کریں اور سمجھیں کہ اس کے نتیجہ میں بھی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا تو ہم اس کی خوشنودی اور اس کی رضا کی جنت حاصل کریں گے محض اپنی عبادتوں اور کوششوں کے نتیجہ میں ہم نہ اس کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں نہ اس کی رضا کی جنت کو پاسکتے ہیں