خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 92
خطبات ناصر جلد اول ۹۲ خطبہ جمعہ ۱۴ جنوری ۱۹۶۶ء سے ہم سب کو کم سے کم یہ علم ضرور حاصل ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کس قسم کی زندگی گزارنے کی ہم سے امید کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کے لئے خلوت اور تنہائی کو پسند فرماتے تھے۔یہاں تک کہ روایات میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کا ارادہ فرمایا اور حضرت عائشہ نے آپ کے لئے مسجد میں کپڑوں کی دیواروں کا ایک حجرہ بنا دیا۔اور ساتھ ہی آپ نے یہ بھی عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر آپ اجازت عطا فرمائیں تو میں بھی اعتکاف بیٹھ جاؤں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی۔چنانچہ آپ نے اپنے لئے بھی مسجد میں ایک حجرہ بنالیا۔بعض دوسری ازواج مطہرات کو علم ہوا تو انہوں نے سوچا کہ ہم کیوں پیچھے رہیں۔چنانچہ پہلے ان میں سے ایک نے اپنے لئے حجرہ بنا یا۔پھر دوسری نے بنا یا۔پھر تیسری نے بنایا اور اس طرح بعض دوسری ازواج کے حجرے بھی تیار ہو گئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کے ارادہ سے مسجد میں تشریف لائے تو آپ نے کئی حجرے دیکھے اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ حجرے کیوں؟ کس لئے؟ اور کس کے لئے بنائے گئے ہیں؟ آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! حضرت عائشہ کو دیکھ کر بعض دوسری ازواج نے بھی اپنے اپنے حجرے بنالئے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا کیا تم اس بات میں نیکی اور تقوی تلاش کرتی ہو کہ تم دوسرے کی نقل کرو اور ایک دوسرے پر فخر ومباہات کرو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ بڑی دور بین تھی۔آپ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی نظر رکھتے تھے آپ نے فرمایا تمہاری اس حرکت کو دیکھ کر دنیا یہ سمجھے گی کہ تم خلوص نیت سے کام کرنے کو نیکی نہیں سمجھتیں بلکہ دکھاوے کی عبادت کو نیکی سمجھتی ہو اور دیکھا دیکھی عبادت بجالانا اور دکھاوے کی عبادت کرنا کوئی نیکی نہیں اس کے بعد آپ مسجد سے باہر تشریف لے گئے اور فرمایا میں بھی اس سال اعتکاف نہیں بیٹھوں گا۔غرض اعتکاف بیٹھنے والے کو حقیقی اور انتہائی تنہائی اور خلوت میسر آنی چاہیے تا وہ اپنا زیادہ تر وقت خدا تعالیٰ کی عبادت اور دعاؤں میں گزار سکے۔ان چیزوں کو دیکھ کر حضرت امام احمد بن حنبل کی جو بڑے پایہ کے امام ہیں۔رائے ہے کہ اعتکاف کی حالت میں قرآن کریم کی تدریس اور اس کا سبقاً پڑھنا پڑھانا بھی جائز نہیں کیونکہ یہ وقت سیکھنے اور