خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1029 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1029

خطبات ناصر جلد اول ۱۰۲۹ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۶۷ء پہنچانا۔مال سے خیر پہنچانی ہے۔اپنے وقت قربان کر کے خیر پہنچانی ہے وغیرہ وغیرہ۔ایک چھوٹا سا نقشہ ہے تمام اسلامی عبادات کا جو رمضان میں ہمیں نظر آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کامل فدائیت کی اس ظاہری علامت کے مقابلہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کی ایک ظاہری علامت رکھی اور وہ رمضان کی آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر ہے یہ اجتماعی لَيْلَةُ الْقَدْرِ ہے یعنی ایک ایسی رات آتی ہے جب اُمّتِ مسلمہ کی دعائیں سنی جاتی ہیں اجتماعی طور پر کیونکہ اُمت کے نمائندے وہ ہوتے ہیں جو خدا کے نزدیک ان کی نمائندگی کر رہے ہوں یعنی جو حقیقی معنی میں اسلام کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنے والے ہوں۔جن کے مال اس کی راہ میں خرچ ہورہے ہوں جن کے جذبات اس کے لئے قربان ہو رہے ہوں اور جن کی عزتیں اس کی راہ میں فدا ہورہی ہوں ان کی دعاؤں کو ایسے رنگ میں سنتا ہے کہ ان میں سے بہتوں کو بتا بھی دیتا ہے کہ آج اُمت کی اجتماعی لَيْلَةُ الْقَدْرِ ہے لیکن ان کے علاوہ بھی جو امت مسلمہ کے افراد ہوں اگر چہ ان کو علم نہیں دیا جا تا کہ وہ رات دعاؤں کی قبولیت کی رات ہے پھر بھی ان کی ایسی دعاؤں کو جو خدائے عظیم اور کبیر کے ارادہ اور منشا کے مطابق ہوں قبول کیا جاتا ہے اور اس طرح اُمتِ مسلمہ کی بقا اور اس کی ترقی کے سامان پیدا کئے جاتے ہیں اور جس وقت اُمت بحیثیت امت اسلام پر قائم نہ رہے اور لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی برکتوں سے محروم ہو جائے اس وقت اُمت پر تنزل کا زمانہ آجاتا ہے یہ دور ہمیں اسلامی تاریخ میں نظر آتے ہیں اور اگر ہم اس کی چھان بین کریں تو یقیناً اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ تنزل کا زمانہ وہ ہوتا رہا ہے جب اُمتِ مسلمہ نے اسلامی احکام کو پس پشت ڈال دیا اور قرآن کریم کو کتاب مہجور سمجھ لیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دینی چھوڑ دیں اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رمضان کی ایک رات ایسی ہے جو ایک ہزار مہینے سے بھی زیادہ اچھی ہے کیونکہ عربی محاورہ میں ہزار کا لفظ ان گنت اور بے شمار کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اس لئے اس کے معنی یہ ہوئے کہ ایک رات ایسی ہے جو بے شمار اور ان گنت مہینوں سے زیادہ برکت والی ہے اور جو شخص اس رات کی برکات سے محروم رہے وہ بڑا ہی محروم آدمی ہے اس سے زیادہ اور کون محروم