خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1022 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1022

خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۶۷ء جاتے ہیں ہم میں سے وہ بھی ہیں جو اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ہم میں سے وہ بھی ہیں جو اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ وہ اس کو ناراض کر رہے ہیں وہ دنیا کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کی خاطر وہ دنیا کی معمولی معمولی عزتوں کے لئے بے حقیقت آراموں کے لئے اس پیارے کے پیار کی طرف سے غفلت برتتے ہیں اور اس وقت اس قسم کا فساد انسان نے اس دنیا میں پیدا کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ مغضوب بن گیا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی رحمت میں وہ وسعت نہ ہوتی جس کا ذکر قرآن کریم میں بیان ہوا ہے تو آج سے کہیں قبل اللہ تعالیٰ کی قہری تجلی انہیں جلا کر خاک کر دیتی مگر خدا تعالیٰ کی رحمت نے یہ چاہا کہ وہ انہیں زندگی کی طرف بلائے۔خدا تعالیٰ نے یہ پسند کیا کہ وہ ہلاکت کی بجائے نجات کی راہوں پر چلنے والے ہوں۔اس لئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم روحانی فرزند ہیں اس دنیا میں اس غرض کے لئے بھیجا کہ اسلام کو تمام دنیا میں غالب کر دیں اور جب ہم یہ فقرہ کہتے ہیں کہ اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سارے انسانوں کے دلوں میں اسلام کی روحانی نہر کا حیات بخش پانی چلا دے اور وہ ”اسلام“ سے زندہ ہو جائیں۔جہاں تک تعلیم کا فی نفسہ تعلق ہے وہ تو ہمیشہ زندہ ہے یعنی وہ مستقل طور پر حقانیت پر قائم اور حق کامل اور مکمل ہے کوئی اس پر عمل کرے یا نہ کرے اس سے اسلامی تعلیم میں کوئی فرق نہیں پڑتا اسلام کو زندہ کرنا ایک محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے ذریعہ دنیا کو زندہ کیا جائے آج دنیا مردہ ہو چکی ہے اور دنیا کو زندگی سوائے اسلام کے اور کوئی دے نہیں سکتا اور یہ ذمہ داری سوائے ہمارے اور کسی پر نہیں۔پس آرام سے نہ بیٹھو خصوصاً ان دنوں میں۔اپنے دنوں کو بھی اور اپنی راتوں کو بھی اس دعا میں خرچ کرو۔اے ہمارے رب! اے ہمارے پیار کرنے والے ربّ! تو نے جو بوجھ ہمارے کندھوں پر ڈالا ہے ہمیں اپنے فضل سے توفیق دے کہ وہ ہم تیری مرضی کے مطابق نباہنے والے ہوں اور بنی نوع انسان تک تیرا حیات بخش پیغام پہنچانے والے ہوں اور اے خدا! ہمارے بھائیوں کو ہلاک نہ کرنا بلکہ انہیں توفیق دینا کہ وہ تجھے پہچانے لگیں اور اس تعلیم کی طرف لوٹ آئیں جس کی طرف تو انہیں بلا رہا ہے اور اس نور سے