خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1012
خطبات ناصر جلد اول ۱۰۱۲ خطبہ جمعہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۶۷ء دیا۔پس بعض دفعہ انسان خوف سے ایسے حالات رضا کارانہ طور پر اپنے لئے پیدا کر لیتا ہے یا مثلاً مسلمان جنگ میں جاتے تھے اور میدان جنگ بہر حال مقام خوف و خطر ہے تو اس میں بھی ہر سہ تکالیف شامل ہیں یعنی دشمن کی پیدا کردہ تکالیف۔قضا و قدر کی پیدا کردہ تکالیف اور رضا کارانہ طور پر اپنے اوپر عائد کی جانے والی تکالیف۔پس اس آیت میں جو میں نے شروع میں تلاوت کی ہے صرف دشمنوں کی پیدا کردہ تکالیف کا ہی ذکر نہیں بلکہ ہر سہ تکالیف کا ذکر ہے پھر آگے وہ تکالیف تین قسم کی بتائی گئی ہیں۔ایک وہ تکالیف ہیں جو باساء کی شکل میں آتی ہیں۔ایک وہ تکالیف ہیں جو ضراء کی شکل میں آتی ہیں اور ایک وہ تکالیف ہیں جو ایک زلزلہ کی شکل میں آتی ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں یہ تکالیف تم پر اس لئے نازل کرتا ہوں تا کہ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ (البقرة : ۲۱۵) رسول اور مومن لوگ پکار اُٹھیں کہ اللہ کی مدد کب آئے گی حتی “ کے ایک معنی جیسا کہ تفسیر صغیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بیان کئے ہیں تاکہ“ کے ہیں یعنی یہ حالات اس لئے پیدا ہوئے ہیں کہ تا تم اپنے رب کی طرف متوجہ ہو اور دعائیں کرو اور خدا سے کہو کہ ہمارے سارے سہارے ٹوٹ گئے صرف ایک تیرا سہارا باقی ہے مَتی نَصدُ اللہ اب تو ہم پر رحم کر اور اپنی مدد اور اپنی نصرت ہمارے لئے آسمان سے نازل کر تب اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول کرتا اور کہتا ہے اِنَّ نَصُرَ الله قريب فکر نہ کرو جس طرح میں تمہارے قریب ہوں اسی طرح میری مددبھی تمہارے قریب ہے ساری طاقتوں اور ساری قدرتوں کا مالک جب ہمارے قریب ہے اور وہ اپنے قرب کا اپنے فعل کے ساتھ اظہار کرنا چاہتا ہے اور ہمیں مشاہدہ کروانا چاہتا ہے تو پھر یہ یقینی ہے کہ ہماری تکلیف دور ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے لئے پہنچ جائے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے باساء اور ضراء اور زلزلہ میں تمہیں مبتلا کرنے کا انتظام اس لئے کیا کہ تاتم دعاؤں کے ذریعہ میری طرف جھکو اور جب تم دعاؤں کے ذریعہ میری طرف جھکو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان عاشقانہ التجاؤں کے نتیجہ میں تم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اس کے حسن اور اس کے احسان کی شناخت تمہارے دل میں اس کی محبت پیدا کرے گی پہلے تم عام مومن تھے