خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1007
خطبات ناصر جلد اول 10+2 خطبہ جمعہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۶۷ء میں دنیا یہ نظارہ دیکھے کہ ایسے ابتلا کے وقت بعض لوگوں نے تو اپنے پیٹ بھر لئے اور بعض کو کچھ بھی نہ ملا اور وہ بھوکے مر گئے گویا ان مواقع پر راشن کو کم کر دیا گیا۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ وہ انہیں اتنا بھی دے دیتا تھا اور پھر جو دیتا تھا اس میں اتنی برکت ڈال دیتا تھا اس تھوڑی سی غذا کی وجہ سے ان پر موت وارد نہیں ہوئی یا انہیں کوئی مستقل جسمانی نقصان نہیں پہنچا لیکن خدا کے لئے بھوک کی تکلیف انہوں نے برداشت کی۔یہ تو اجتماعی رنگ تھا بعض دفعہ انفرادی طور پر بھی انسان اپنے کھانے کا ایک حصہ دوسرے کو دے دیتا ہے۔مثلاً ایسے وقت میں کوئی مہمان آجاتا ہے کہ اس کے لئے زائد کھانا پکا نا مشکل ہوتا ہے یا ایسا کرنا تکلف میں شامل ہوتا ہے تو گھر والے نصف کھانا کھا لیتے ہیں اور نصف اپنے مہمان کو دے دیتے ہیں پس یہ بھی بھوک کو برداشت کرنے کی ایک شکل ہے یا پھر رمضان ہے جو بھو کے رہنے کی قربانی کے اصول قائم کرنے کی بنیاد ہے۔رمضان کے مہینہ میں اللہ تعالیٰ ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ پو پھٹنے سے لے کر سورج غروب ہونے تک بھوکے رہو پیاسے رہو اور نفس کی بعض دوسری خواہشات کو بھی چھوڑ دو پس رمضان میں انسان اس تکلیف کو برداشت کرتا ہے۔بعض دفعہ انسان اپنی مرضی سے اپنے رب کی خوشنودی کے حصول کے لئے دوسری تکالیف بھی برداشت کرتا ہے۔مثلاً وہ سردی کی تکلیف برداشت کرتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ مجھ سے بڑی عمر کا ایک شخص ہے اس کے پاس کپڑے کافی نہیں ہیں اور شدت سردی کی وجہ سے اسے تکلیف ہو رہی ہے وہ سوچتا ہے کہ اس بوڑھے کی تکلیف میری تکلیف سے زیادہ ہے اگر میں اپنے کپڑے اس کو دے دوں تو جو تکلیف مجھے پہنچے گی وہ اس کی تکلیف سے کم ہوگی چنانچہ اس کا دل جو اپنے رب کا عاشق ہوتا ہے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اللہ کے دو بندوں میں سے جس کو کم تکلیف پہنچے اس کو وہ تکلیف برداشت کر لینی چاہیے اور جس کو زیادہ تکلیف پہنچ رہی ہو اس کی تکلیف دور کر دینی چاہیے پس وہ اپنے کپڑے اپنے اس بھائی کو دے دیتا ہے اور خود سردی کی تکلیف برداشت کرتا ہے۔اسی طرح اسلام کے سینکڑوں حکم ہیں اور ان میں سے ہر حکم ہم سے ایک قربانی چاہتا ہے تبھی تو اس کا بدلہ اور جز املتی ہے۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے قربانی چاہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ