خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1008
خطبات ناصر جلد اوّل 1++A خطبہ جمعہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۶۷ء ہمیں اس کے نتیجہ میں تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے وہ تکلیف جسمانی ہو جذباتی ہو یا کسی عادت کو چھوڑنے کی وجہ سے ہو وغیرہ وغیرہ۔تکالیف کی بھی سینکڑوں قسمیں ہیں اور احکام نواہی بھی سینکڑوں ہیں اور ہر حکم اور ہر نہی جو قرآنِ عظیم میں بیان ہوئی ہے جب ہم اس پر عمل کرتے ہیں تو ہم ایک قربانی دے رہے ہوتے ہیں ہم ایک تکلیف اپنے نفس پر ڈال رہے ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ خدا کے لئے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے ہوتا ہے۔غرض یہاں اللہ تعالیٰ نے ہر سہ قسم کے مصائب اور شدائد اور تکالیف کا ذکر کیا ہے پھر آگے ہر ایک کی تین تین قسمیں ہیں یعنی وہ با ساء جو مخالف کی طرف سے آتی ہے یا قضا و قدر کے نتیجہ میں آتی ہے یا وہ تنگدستی جس میں انسان اپنے آپ کو خود ڈال لیتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو غریب کر لیتا ہے یعنی ایک تو وہ ہے جس کی فصل ماری گئی ہے اور غریب ہو گیا ہے اور ایک وہ تھا جو اپنے گھر کا سارا اثاثہ لے آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا ڈالا۔ابوبکر بھی تو بظاہر فقیر ہو گئے تھے تنگ دستی ان پر بھی آگئی تھی لیکن وہ تنگ دستی رضا کارانہ تھی اور اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے تھی پس ایک تنگ دستی وہ ہے جو مخالف کے فعل کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے جیسا کہ مثلاً مکہ سے ہجرت کرتے ہوئے مسلمانوں نے قریباً اپنے سارے اموال وہاں چھوڑ دئے اس کے نتیجہ میں وہ تنگ دست ہو گئے اور وہ جو بہت مال دار تھے وہ بھی ہجرت کی وجہ سے غریب ہو گئے ان کو اللہ تعالیٰ نے غیرت بھی عطا کی تھی مدینہ میں آئے تو انہوں نے کہا ہم نے خدا کے لئے مال چھوڑا ہے پھر کسی آدمی کے آگے ہاتھ پھیلانے کا کیا مطلب ان میں سے بعض نے کلہاڑا لیا جنگل کی طرف نکل گئے اور لکڑیاں کاٹ لائے اور اس طرح انہوں نے اپنا پیٹ پالنا شروع کیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے رزق میں بڑی برکت دی بہر حال وہ رضا کارانہ طور پر اپنے تمام اموال خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑنے کے لئے تیار تھے اور عملاً انہوں نے چھوڑ بھی دئے۔یہ ایک تنگ دستی ہے جو دشمن کے عناد کے نتیجہ میں ان پر آئی۔اگر مکہ والے ان کے لئے ایسے حالات پیدا نہ کر دیتے تو ان کو اپنے اموال نہ چھوڑنے پڑتے پھر قضا و قدر کے