خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1001
خطبات ناصر جلد اول 1++1 خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۶۷ء ا ہوئی ہو مل جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کا بڑا شکر بجالاتے ہیں۔پس ربوہ والوں کا یہ فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ان مہمانوں کے لئے اپنے گھروں کے کچھ حصے وقف کریں اور جلسہ سالانہ کے انتظام میں انہیں دے دیں۔یہ بھی ان کا فرض ہے کہ جب وہ اپنے مکان کا ایک کمرہ یا دو کمرے وقف کر چکیں تو پھر وقت پر دینے سے انکار نہ کریں کیونکہ اس سے بہت زیادہ تکلیف اور پریشانی ہوتی ہے ہمارے مہمان کو بھی اور منتظمین جلسہ کو بھی۔منتظم مطمئن ہوتے ہیں کہ ہم نے فلاں بھائی کے خاندان کے لئے انتظام کر دیا ہے وہ مطمئن ہوتا ہے کہ میرے لئے جگہ کا انتظام ہے لیکن جب وہ ربوہ پہنچتے ہیں تو گھر والے کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے فلاں واقف آگئے تھے جن کا پہلے پتہ نہیں تھا وہ کمرہ یا کمرے جو آپ کو دیئے ہوئے تھے وہ تو ہم نے اپنے رشتہ دار یا دوست کو دے دئے یا واقف کو دے دیئے۔بچارے کو انتہائی کوفت اور پریشانی اٹھانی پڑتی ہے اور آپ گنہ گار ہوتے ہیں وعدہ کرتے ہیں اور پورانہیں کرتے اور اپنے بھائیوں کی پریشانی کا باعث بنتے ہیں ایک حقیقی مومن کی جو علامت اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں جگہ دیتے ہیں اپنے ضرورت مند بھائیوں کو ) اس کی خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے اس فعل سے اس بات پر مہر لگا رہے ہوتے ہیں کہ آپ اس حد تک حقیقی مومن نہیں (اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے آپ ہمیشہ محفوظ رہیں۔ہر دم دعا بھی اور کوشش بھی ہونی چاہیے کہ ہم کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے ہم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لینے والے ہوں)۔جلسہ قریب آ رہا ہے اور اس کے انتظام شروع ہو چکے ہیں میں اپنے دوستوں سے یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے ان بھائیوں کے لئے جو خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے محض دین کی خاطر اور خدا تعالیٰ کی باتیں سننے کے لئے یہاں آتے ہیں اپنے مکانوں کا ایک حصہ وقف کریں اور انتظام جلسہ کے سپر د کریں تاکہ وہ انتظام کے ماتحت استعمال کئے جاسکیں اس سے آپ اپنے گھروں کو دراصل مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر کا ایک حصہ بنالیں گے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ وسغ مكانك تو اس میں صرف آپ ہی مخاطب نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو آپ کی سنت پر عمل کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کے منشا کو سمجھنے والا اور اس منشا