خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 956
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۲۷/اکتوبر ۱۹۶۷ء مقابلہ پر ۳,۷۰,۰۰۰ ہو چکی ہے اور ابھی قریباً ایک لاکھ ساٹھ یا ستر ہزار کے وعدے ایسے ہیں جو قابل وصول ہیں اگر ان میں سے ایک بڑی رقم وصول ہو جائے ہوئی تو سو فیصدی چاہیے لیکن بعض دفعہ کوئی صاحب فوت ہو جاتے ہیں یا نوکری ان کی چھوٹ جاتی ہے یا کوئی ایسی جائز روک پیدا ہو جاتی ہے اور وہ چندہ ادا نہیں کر سکتے تو اگر اس کو مد نظر بھی رکھا جائے تب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ رقم جو ہے وہ اصل آمد ۳,۵۵,۰۰۰ سے بڑھ کے جو ۱۹۶۰ء کی آمد ہے قریباً ۵٫۰۰,۰۰۰ روپے تک چلی جائے گی یا اس سے بھی بڑھ جائے گی ( ۵٫۳۵,۰۰۰ کے وعدے ہیں غالباً) جس کا یہ مطلب ہوگا کہ ڈیڑھ لاکھ روپے زیادتی ہوئی لیکن جو عملاً ہمیں ضرورتیں پیش آئی ہیں وہ ڈیڑھ لاکھ روپے سے زیادہ کی تھیں اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا نہ کرتا کہ آپ کی غفلت اور ستی پر پردہ ڈال دے تو ہمارے سارے کام رک جاتے اس لئے کہ اس عرصہ میں بیرون پاکستان میں اتنی مضبوط جماعتیں پیدا ہو گئیں کہ ان میں بہت سی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئیں اور بہت سی ایسی تھیں جنہوں نے بیرون پاکستان مشنز کو امداد دینی شروع کر دی اور اس کے نتیجہ میں ہمارے کام میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ ترقی کی طرف ہمارا قدم بڑھتا چلا گیا لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ خوش ہو جائیں کہ ہمیں اب زیادہ قربانیاں دینے کی ضرورت نہیں۔اس کے معنی تو یہ ہیں کہ جیسے فکر پیدا ہوئی ہے کہ ہم نے غفلت اور سستی دکھائی اور وہ انعامات جو ہمیں ملنے چاہئیں تھے وہ ہمیں نہیں ملے اور دوسروں نے ہمارے ہاتھ سے چھین لئے۔اگر ہمیں وہ مل جاتے اور بیرون پاکستان کے بھائی بھی اللہ تعالیٰ کے ان انعامات میں شریک ہوتے تو ہمارے لئے بڑی خوشی کی بات تھی لیکن ہوا یہ کہ ان کو تو اللہ تعالیٰ نے بڑے انعامات سے نواز الیکن اس کے مقابلہ میں جو انعامات ہمیں ملنے چاہئیں تھے ہمیں نہیں ملے بیرونی ممالک کے اعداد و شمار صحیح تصویر پیش نہیں کرتے کیونکہ اس میں وہ امداد بھی شامل ہے جو حکومتوں کی طرف سے ہمارے سکولوں کو ملتی ہے اور وہ کافی بڑی رقمیں ہیں۔مغربی افریقہ میں ہمارے بہت سے سکول ہیں جو امداد لے رہے ہیں یہاں بھی ہمارے کالج اور سکول کو ایڈ ملتی ہے اور وہ ہمارے بجٹ میں شامل ہوتی ہے وہاں چونکہ کثرت سے سکول ہیں حکومت کی طرف سے جو