خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 918 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 918

خطبات ناصر جلد اول ۹۱۸ خطبہ جمعہ ۲۹ ستمبر ۱۹۶۷ء ہوں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر نازل ہو رہی ہیں اسی طرح آپ کی اولا داور نسل پر بھی نازل ہوں تو آپ اپنے بچوں کی تربیت کچھ اس رنگ میں کریں کہ ہر ایک کے دل میں یہ احساس زندہ ہو جائے اور ہمیشہ بیدار رہے کہ ایک عظیم مہم اللہ تعالیٰ نے توحید کے قیام اور غلبہ اسلام کے لئے جاری کی ہے احمدیت کی شکل میں اور اب ہمیں اپنا سب کچھ قربان کر کے اس مہم میں حصہ لینا اور اسے کامیاب کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ان انتہائی فضلوں اور رحمتوں کا وارث بننا ہے جن کا وعدہ اس نے ہم سے کیا ہے۔دوسرا امر جس کی طرف میں آج جماعت کو تو جہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔والكم مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَ إِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا - (ابراهیم : ۳۵) اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان کیا ہے کہ چاند اور سورج اور عالمین کی دوسری چیزیں ہم نے پیدا کیں اور ان کو تمہاری خدمت میں ہم نے لگادیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ تم نے اس سے جو کچھ بھی مانگا وہ اس نے تمہیں عطا کیا اور اس سے زیادہ بھی دیا کیونکہ تم نے جو کچھ مانگا وہ محدود تھا لیکن اس نے جو کچھ تمہیں دیا اس کا شمار نہیں۔حد بندی اس کی نہیں ہوسکتی۔قیمت اس کی نہیں لگائی جاسکتی اس کی ایک تفسیر تو یہ کی جاتی ہے جو اپنی جگہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری پیدائش سے قبل ہماری ضرورتوں کو پورا کر کے ہم پر بے شمار احسان کئے ہیں اور ان احسانوں کا بھی ہم اپنی زندگی میں شکر ادا نہیں کر سکتے اور وہ شمار نہیں ہو سکتے اور جو تم نے مانگا کے معنی یہ ہوں گے کہ جو تم نے زبان حال سے مانگا یعنی جس مقصد کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا تھا اس مقصد کے حصول کے لئے جس چیز کی بھی تمہیں ضرورت تھی اس کا سامان بغیر تمہارے علم کے اور بغیر تمہارے مانگے کے ہم نے تمہیں عطا کر دیا تھا لیکن اس کے ایک دوسرے معنی یہ بھی صحیح طور پر کئے جا سکتے ہیں کہ جو تم مانگتے ہو وہ بھی ہم دیتے ہیں۔مگر تمہیں صرف اتنا ہی نہیں دیتے جتنا تم مانگتے ہو بلکہ اس سے کہیں زیادہ دیتے ہیں اور ہمارے فضلوں کا تم شمار نہیں کر سکتے اتنی کثرت سے ہم دیتے ہیں۔اب دیکھیں میں یورپ کے سفر پر جارہا تھا میں نے بھی بڑی دعائیں کیں۔جماعت کو بھی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ بہت دعائیں کریں۔پس ساری