خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 912
خطبات ناصر جلد اوّل ۹۱۲ خطبہ جمعہ ۲۲ ستمبر ۱۹۶۷ء چاہیے کہ یہ ضروری نہیں کہ اگر دعا رد ہو جائے تو اس سے ہمیں نقصان پہنچے گا، کیونکہ بہت سی دعائیں غلط طور پر مانگی جاتی ہیں ان کا قبول ہو جانا تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے اور ان کا رد کیا جانا کوئی تکلیف نہیں دیتا، بلکہ اس شخص کے لئے مفید ہوگا۔تو ان ساری باتوں کو دعا کے متعلق ذہن نشین رکھنا چاہیے اور ہر احمدی کو اس بات پر یقین کامل رکھنا چاہیے کہ ہم بڑے کمزور ہیں ہم بڑے غریب ہیں ، ہمیں کوئی اثر و رسوخ اور سیاسی اقتدار حاصل نہیں اور دنیا میں غلبہ اسلام کی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے باوجود که لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرۃ: ۲۸۷) وہ کون سی وسعت ہے جو اس نے ہمیں دی ہے؟؟ وہ دعا کی وسعت ہے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو روک لیا کہا کہ ہم تمہیں نہیں دیں گے اور کہا کہ یہ کام تمہارے سپرد کرتے ہیں، نکلو دنیا میں اور یہ کام پورا کرو، دنیا اس کام کو ان ہونا مجھتی ہے اور ان ہونا یقین کرتی ہے (اپنی حماقت کے نتیجہ میں ) لیکن اللہ تعالیٰ نے جس کا یہ وعدہ ہے کہ میں تمہارے ذمہ کوئی چیز نہیں لگاؤں گا جو تمہاری طاقت میں نہ ہو ، یہ کام ہمارے ذمہ لگا دیا تو ہمیں سوچنا چاہیے کیونکہ اس نے ہمیں عقل دی ہے کہ اس نے ہمیں کیا چیز دی ہے، کون سا ہتھیار ہے، جس کے ذریعہ ہم غالب آ سکتے ہیں؟؟ وہ ہتھیار دعا کا ہے۔اس نے مادی طاقتیں ہم سے لے لیں اور اپنا پیار اور دعا ہمارے ہاتھ میں پکڑا دی اور کہا کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں تمہاری دعاؤں کو سنوں گا، کسی اور چیز کی تمہیں ضرورت نہیں ہے جاؤ اور دنیا پر اسلام کو غالب کرو، میں تمہارے ساتھ ہوں ،گھبراؤ نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں سچا اور حقیقی احمدی بنے کی توفیق عطا کرے اور جو علوم ہمیں سکھائے گئے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ وہ ہمارے ذہن میں ہمیشہ حاضر ر ہیں اور ہماری نسلوں میں وہ ہمیشہ محفوظ رہتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں پر مغفرت کی چادر ڈالے اور محبت اور پیار کا سلوک جو وہ آج تک ہم سے کرتا چلا آیا ہے آئندہ بھی اس کا اسی محبت اور پیار کا سلوک ہمارے ساتھ رہے۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ ) 谢谢谢