خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 896 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 896

خطبات ناصر جلد اول لے کے آتا تھا۔۸۹۶ خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء تو تربیت کے میدان میں بھی اللہ تعالیٰ نے انتہائی احسان کیا ہے اب اس احسان عظیم (اگر مفرد کا لفظ ہی بولا جائے ) یا کئی ایک جن میں سے بعض سلسلوں کا نام میں نے لیا ہے اور چند مثالیں دی ہیں بے شمار قسم کے بے شمار گنتی میں احسان اللہ تعالیٰ نے ہم پر کئے ہیں اور کیا کرتا ہے۔ان دنوں میں تو بہت زیادہ کئے ہیں۔ہم پر اس کے نتیجہ میں بہت سے فرائض عائد ہوتے ہیں۔پہلا فرض تو یہ ہے۔کہ ہم اپنے اللہ کے حقیقی معنی میں شکر گزار بندے بنیں۔دوسرا فرض یہ ہے کہ ہم اپنے اللہ پر سچے دل سے توکل رکھنے والے ہوں اور سوائے خدا کے کسی اور کی طرف ہماری نگاہ نہ اٹھے۔چند مثالیں میں نے دی ہیں سوائے اللہ کے وہاں کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی تو جس نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ میں ہی تمہارے لئے کافی ہوں کسی اور طرف جانے کی ضرورت نہیں۔اب سارا کچھ دیکھنے کے بعد ہم کس طرف جائیں گے۔ہماری بڑی بدقسمتی ہوگی اگر ہم اللہ کو چھوڑ کے یا اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کر کے اس پر یا ان پر تو کل شروع کر دیں تو سوائے خدا کے کسی اور کے لئے حمد کے جذبات ہمارے دلوں میں نہیں ہیں اور نہ ہونے چاہئیں اور سوائے خدا کے کسی ہستی پر کسی وجود پر تو کل نہیں کر سکتے نہ کسی شے پر ہم تو کل کرتے ہیں دنیا جانتی ہے (اور ہم سے بھی یہ حقیقت چھپی ہوئی نہیں ) کہ ہم ایک کمزور جماعت ہیں ہم ایک غریب جماعت ہیں ہم ایک کم علم جماعت ہیں ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کے پاس کوئی سیاسی اقتدار نہیں نہ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں ہم وہ جماعت ہیں جس کے پاس بادشاہتیں نہیں اور نہ یہ جماعت بادشاہتوں کو حاصل کر کے کوئی خوشی حاصل کر سکتی ہے کیونکہ وہ ہمیں مل گیا ہے اس کے فضل سے اور جب وہ ( اللہ ) مل جائے تو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فارسی کے شعر میں فرمایا ہے۔کہ جو تجھ سے پیار کرے اور جسے تو پیار کرے اسے تو دو جہاں دے دیتا ہے۔لیکن جو تیرا ہو جائے وہ ان دونوں جہانوں کو کیا کرے اس کے نزدیک یہ بے معنی چیز ہیں۔تو اصل چیز یہ ہے کہ رضاء الہی فضل الہی کے نتیجہ میں ہمیں حاصل ہوئی ہے۔ہمیں ہر چیز قربان کر کے اس رضاء الہی کو ہاتھ سے