خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 885
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۸۵ خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء انہوں نے اسے بڑی اہمیت دی ہے اور جب وہ آیا ( اور بغیر وقت مقرر کرنے کے آیا کہ آدمی ویسے ہی سوچ لیتا ہے کہ جو اس قسم کے سوال کرے گا ، تو میں ذہنی طور پر تیار ہو جاؤں ) میں نے اس کو بلا لیا۔میں نے کہا کہ پہلے بات کر لو کہ کون سے سوال کرنے ہیں، براڈ کاسٹنگ کی ریل پر کون سے آئیں کون سے نہ آئیں۔کہنے لگا نہیں جی، اسی طرح ٹھیک ہے میں سوال کرتا جاتا ہوں آپ جواب دیتے جائیں۔ایک سیکنڈ کے لئے دل میں گھبراہٹ پیدا ہوئی پھر میرے دل نے کہا کہ پہلے تم نے کون سا جواب دیا تھا کہ اب تم گھبرا رہے ہو جو پہلے جواب سکھاتا تھا اب بھی وہی سکھائے گا، کوئی گھبرانے کی بات نہیں۔وہ سوال کرتا تھا اور میں اس کو جواب دیتا تھا مجھے اب یاد نہیں کہ میں نے اس کو کیا جواب دیئے تھے۔بہر حال وہ ایسا اچھا پروگرام یقیناً بن گیا جو ایک ہفتہ نہیں، دو ہفتے نہیں، بلکہ تین ہفتے اس میں آیا۔کیونکہ آخری دفعہ جو آیا ہے وہ ۲۳ تاریخ کو آیا ہے پہلی دفعہ دس کو ہوا تھا اور سیرالیون میں ہمارے ایک احمدی ٹیچر جو یہاں سے گئے ہوئے ہیں۔لکھتے ہیں کہ اچانک میں نے (ریڈیو ) لگا یا تو اعلان ہو رہا تھا کہ آپ کا انٹرویو آ رہا ہے، ہم نے سنا اور بڑے خوش ہوئے اور ہماری آنکھوں کے سامنے یہ الہام آ گیا کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔تو میں یہ بات کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ سلسلہ تھا احسانوں کا، فضل کا اور رحمت کا کہ جس چیز کی ضرورت ہوتی تھی وہ خود مہیا کر دیتا تھا، ورنہ جیسا کہ میں نے کہا ہے، میں نے بڑی دعائیں کیں مجھے بڑی گھبراہٹ تھی جب میں اپنے نفس کو دیکھتا تھا تو پریشان ہو جا تا تھا کہ میں کیسے اپنی ذمہ داری کو نبھا سکوں گا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر دیا تو نفس بیچ میں سے غائب ہو گیا صرف خدا اور اس کا وعدہ سامنے تھا، تو دلیری کے ساتھ ہم گئے اور اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر ہر جگہ اپنے وعدہ کو پورا کیا۔چوتھا سلسلہ اس کے فضل کا یہ ریڈیو ہے اور ریڈیو والے بھی بڑے متکبر ہوتے ہیں وہاں وہ آزاد ہیں یہ نہیں کہ حکومت کی پالیسی کے ساتھ چلیں، پالیسی ان کی اپنی ہوتی ہے۔مجھے ایک دفعہ خیال آیا کہ میں ساری دنیا کے احمدی بھائیوں اور بہنوں کے کان تک اپنی آواز پہنچا دوں۔کیونکہ