خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 71 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 71

خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ (ي چھوٹا سا ٹکڑا ہے ایک لمبی حدیث کا ) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے روزہ کو تمہارے لئے ڈھال بنایا ہے اور تمہاری نجات کا راز اور تمہاری نسلوں کی بقا کا سر اس بات میں ہے کہ تم اپنی زندگیوں کو اور اپنی نسلوں کی تربیت کو اپنے مولا کی مرضی کے تابع بناؤ۔(فَلَا يَرْفُثْ ) اور اپنے منہ سے جاہلیت کی زبان باہر نکال پھینکو اور اپنے جوارح کو زمانہ جاہلیت کی بداعمالیوں سے پاک کرو۔(وَلَا يَجْهَلُ) اور آنے والی نسلوں کے لئے نیک نمونہ قائم کرو۔اگر تم روزے کو اپنے لئے ڈھال نہیں بناؤ گے تو اللہ تعالیٰ کے غضب سے کبھی بچ نہیں سکو گے۔پس محض روزہ رکھنا کافی نہیں بلکہ اتنی دعاؤں کے ساتھ ، اتنی نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ اور اتنی بے نفسی اور فنا کی حالت میں روزہ رکھنا چاہیے کہ ہمارا روزہ اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت حاصل کر لے۔اگر ہمارا روزہ خدا کے حضور قبولیت حاصل نہ کرے تو پھر یہ درحقیقت وہ روزہ نہیں جس کا حکم خدا تعالیٰ نے دیا تھا بلکہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنا ہے۔پس روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی گردن اور اپنی نسل کی گردن خدا کی آخری اور کامل شریعت قرآن کریم کے جوئے کے نیچے رکھ دے۔اسی لیئے نفلی عبادت جو رمضان سے خاص طور پر تعلق رکھتی ہے۔وہ تلاوت قرآن کریم کی کثرت ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فعل اس پر شاہد ہے کہ اس ماہ میں قرآن کریم کو کثرت سے پڑھنا چاہیے حضرت جبرئیل رمضان کے مہینے میں ہر رات زمین پر نزول فرماتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر قرآن کریم کا دور کرتے اور ہر رمضان میں ایسا ہوتا رہا۔تا اُمتِ مسلمہ جان لے کہ رمضان شریف میں قرآن کریم بکثرت پڑھنا چاہیے۔پھر چونکہ روزے کی حکمت اور اصل غرض یہ ہے کہ انسان کو یہ تعلیم دی جائے کہ وہ اپنی گردن خدا کی مرضی کے جوئے تلے رکھ دے اور خدا کی مرضی کا علم ہمیں قرآن کریم کے سوا ہو نہیں سکتا تھا۔اس لئے ضروری ہوا کہ قرآن کو پڑھا جائے اور پڑھنے سے مراد صرف الفاظ ہی کی تلاوت نہیں بلکہ جسے خدا توفیق بخشے اور علم و فراست عطا فرمائے اس کا فرض ہے کہ وہ اس کے مطالب پر غور کرے اور وہ پڑھے تو اس نیت سے پڑھے کہ اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔اگر نیت