خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 846 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 846

خطبات ناصر جلد اوّل ۸۴۶ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۶۷ء سامان آسمانوں پر مقدر ہو چکے ہیں اور زمین پر ظاہر ہونے والے ہیں اور اگر ان اقوام نے اللہ تعالیٰ کے اس منشا کو نہ سمجھا تو پھر ایک ایسی ہلاکت ان کے سروں پر منڈلا رہی ہے کہ جو انسانی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔لیکن چونکہ وجہ اس سفر کی کو پن ہیگن کی مسجد کا افتتاح بن گیا تھا اور اس مسجد کو احمدی مستورات کی مالی قربانیوں نے بنایا تھا اس لئے آج کے لئے میں نے مستورات کی خوابوں میں سے تین کا انتخاب کیا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ مکرمہ مخدومہ محترمہ آپا مریم صدیقہ صاحبہ آج کل یہاں نہیں ہیں انہوں نے ایک بڑی مبشر خواب دیکھی تھی لیکن زبانی مجھے سنائی تھی ہو سکتا ہے کہ بعض حصے چھوڑ جاؤں اس لئے میں نے ان کی اس خواب کا آج کے خطبہ کے لئے انتخاب نہیں کیا۔لیکن قبل اس کے کہ میں یہ تین رؤیا آپ دوستوں کو سناؤں۔میں یہ بھی آج بیان کرنا چاہتا ہوں کہ سفر پر روانگی سے چند روز قبل ایک دن صبح کے وقت جب میں اٹھا تو میری زبان پر یہ مصرع جاری ہوا۔تشنہ روحوں کو پلا دو شربتِ وصل و بقا یہ مصرع بطور طرح مصرع کے میں نے محترمہ مخدومہ پھوپھی جان صاحبہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو دیا تھا اور انہوں نے ایک آدھ شعر بھی کہا ہے نظم تو مکمل نہیں کر سکیں ( یہ نظم اب الفضل کے ایک شمارہ میں شائع ہو چکی ہے ) لیکن بعض اور احمدی شاعروں نے اس مصرع کو سامنے رکھ کر بعض نظمیں بھی لکھی ہیں بعض چھپ گئی ہیں بعض شائد آئندہ الفضل میں چھپ جائیں۔اس میں بھی در اصل اجازت دی گئی تھی اس سفر پر روانہ ہونے کی اور اس ضرورت کا احساس پیدا کیا گیا تھا کہ اقوام یورپ روحانی طور پر پیاسی ہیں اور انہیں قرآن کریم کے چشمہ سے سیراب ہونے کی ضرورت ہے اس وقت اس کے بغیر نہ وہ اقوام اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کر سکتی ہیں اور نہ اس دنیا میں باقی رہ سکتی ہیں اور جو غرض اس سفر سے تھی اس کی تفصیل کی طرف اشارہ اس چھوٹے سے مصرع میں کیا گیا تھا۔سفر پر روانہ ہونے سے قبل ہماری بڑی پھوپھی جان نے لاہور میں یہ خواب دیکھی جو انہی دنوں انہوں نے اپنے خط میں لکھ کر بھجوائی تھی میں وہ آج سنانا چاہتا ہوں۔