خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 841
خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۶۷ء میں نے محترمی مخدومی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے کہا کہ آپ اسے پڑھیں اور مجھے مشورہ دیں کہ آیاری سپشن کے بعد میں یہ تقریر کروں یا نہ کروں میں نے انہیں اس کا پس منظر بھی بتایا۔اگلے دن صبح ان کا پیغام مجھے آیا کہ آپ یہ تقریر ضرور کریں تقریر کے انگریزی ترجمہ کے فقرات میں بعض جگہ انہوں نے لفظی اصلاح بھی کی انگریزوں کا یہ طریق تھا کہ وہ ڈنر کے بعد ہلکی پھلکی تقریریں کرتے ہیں اور وہ تین تین چار چار منٹ کی ہوتی ہیں یہی کہ ایک دو لطیفے سنا دیئے اور بیچ میں کوئی کام کی بات کہہ دی میں اس بات کی وجہ سے بڑا پریشان تھا۔کیونکہ مجھ سے پہلے چار تقریریں تھیں سب سے پہلے مئیر کھڑا ہوا اور اس نے پاکستان کی بھی اور جماعت کی بھی بڑی تعریف کی اور تین چارمنٹ کے بعد وہ بیٹھ گیا اس کے بعد ایم پی کھڑا ہوا ان کی طبیعت میں مزاح تھا انہوں نے ایک دو لطیفے سنائے اور خوب ہنسایا پھر پاکستان ایسوسی ایشن کا پریذیڈنٹ کھڑا ہوا اور اس نے اپنے لحاظ سے کچھ سنجیدہ اور کچھ ہلکی پھلکی تقریر کی۔آخر میں ( مجھ سے پہلے ) چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب تھے وہ کھڑے ہوئے انہوں نے ایک دو فقروں کے بعد میرے متعلق کہا کہ انہوں نے اس وقت بعض بڑی اہم باتیں کرنی ہیں اس لئے میں زیادہ وقت نہیں لیتا گویا انہوں نے میرے پیغام کا تعارف بھی کرادیا اور وہ سارے اس بات کے لئے تیار ہو گئے کہ کوئی اہم پیغام آنے والا ہے میرے ذہن سے بوجھ اُتر گیا اور میں نے مضمون پڑھنا شروع کیا ۴۵ منٹ میں وہ مضمون ختم ہوا اس سارے عرصہ میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سامعین مسحور ہیں کوئی آواز وہاں پیدا نہ ہوئی بعد میں احمدیوں نے مجھے بتایا کہ ہمیں پسینے آرہے تھے اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بڑا تیز مضمون تھا لیکن وہ مضمون میر انہیں تھا یہ نہیں تھا کہ میں نے سوچ کر اور عقل پر زور دے کر اسے بنایا ہو بلکہ جب میں لکھنے لگا تو مضمون ذہن میں آتا گیا اور میں لکھتا گیا۔ایک احمدی کہنے لگا کہ میرے ساتھ ایک انگریز بیٹھا ہوا تھا جب آپ نے مضمون پڑھنا شروع کیا تو اس نے حیرانی سے منہ کھولا اور پھر ۴۵ منٹ تک اس کا منہ کھلا ہی رہا جس وقت میں نے مضمون ختم کیا اور سلام کیا اس وقت شاید کوئی چیونٹی بھی چلتی تو مجھے آواز آجاتی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا سارے سٹنڈ (Stunned ) ہو گئے ہیں اپنے بھی اور پرائے بھی۔اس خاموشی کی حالت میں میں نے سلام کیا اور باہر نکل گیا جب تک