خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 842 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 842

خطبات ناصر جلد اوّل ۸۴۲ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء میں ہال سے باہر نہیں نکلا میرے کان میں کوئی آواز نہیں پڑی علاقہ کے میئر میرے ساتھ تھے وہ بڑے عقل مند آدمی تھے ہمارے احمدیوں کو یہ خیال نہ آیا کہ میں اکیلا باہر نکل گیا ہوں وہ سارے وہیں بیٹھے رہے تھے انہیں یہ بھی خیال نہ آیا کہ یہ اکیلے موٹر میں کیسے چلے جائیں گے وہاں موٹر ڈرائیور بھی نہیں تھا میئر مجھے کہنے لگا آپ تھکے ہوئے ہوں گے ادھر آئیں ہم ذرا یہاں بیٹھتے ہیں میں نے کہا۔ٹھیک ہے ہال او پر تھا ہم سیڑھیوں سے نیچے اتر کے نیچے کے کمرے میں چلے گئے اور وہاں کھڑے کچھ دیر تک باتیں کرتے رہے وہاں وہ ایم پی بھی آگئے وہ کہنے لگے مجھے امید ہے کہ جس تباہی کا آپ نے ذکر کیا ہے اس کی پیش گوئی ہمارے حق میں پوری نہیں ہوگی۔قبل اس کے کہ میں اس کا کوئی جواب دیتا میئر نے کہا کہ ان کی تقریر کا خلاصہ تو یہ ہے کہ ایک تو دنیا میں امن ہونا چاہیے اور دوسرے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنا چاہیے جب اس نے اس رنگ میں جواب دیا تو وہ خاموش اور سنجیدہ ہو گئے ویسے تو وہ بڑا اچھا آدمی تھا لیکن بعض آدمیوں کی طبیعت ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہنسی مذاق کرتے رہتے ہیں اور جس وقت میئر نے دیکھا کہ لوگ نیچے اُتر آئے ہیں (سامنے کا دروازہ کھلا ہوا تھا ) تو کہنے لگے اچھا اب چلئے تب مجھے پتہ لگا کہ اس کے دماغ میں یہ نہیں تھا کہ میں تھکا ہوا ہوں اور آرام کروں بلکہ یہ تھا کہ میں اکیلا ہوں سارے ساتھی وہاں بیٹھے ہیں اور موٹر چلانے والا بھی وہاں بیٹھا ہے کیونکہ وہاں ڈرائیور استعمال نہیں ہوتا سارے لوگ کارمیں آپ ہی چلاتے ہیں۔پھر میں نے جماعت کو ہدایت دی کہ میرا یہ مضمون بہت تھوڑے آدمیوں نے سنا ہے اب اسے گھر گھر پہنچاؤ اور خرچ کا اندازہ لگاؤ انہوں نے کہا پچاس ہزار کا پیوں پر کوئی ڈیڑھ سو پونڈ خرچ آئے گا یعنی پچاس ہزار کا پیوں پر دو ہزار روپے میں نے کہا ٹھیک ہے اگر پیسے نہیں ہیں تو میں انتظام کر دیتا ہوں وہ کہنے لگے رقم کا انتظام ہم کر چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے وہاں رہنے والے احمدیوں کو قربانی کی بڑی توفیق دی ہے چنانچہ چند دوستوں نے باہم مل کر یہ فیصلہ کیا کہ ہم اسے شائع کریں گے چنانچہ پچاس ہزار کا پیاں اس مضمون کی وہاں چھپ چکی ہیں۔اب میں نے ہدایت دی ہے کہ اس کا جرمن ، ڈینش اور ڈچ زبانوں میں ترجمہ ہو جائے اور پھر اگر موقعہ ملا