خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 819
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۱۹ خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۶۷ء خیر ہم یورپ کے سفر پر روانہ ہوئے۔وہاں جس رنگ میں برکتوں کا نزول ہوا ہے اس کے بیان سے قلم قاصر ہے۔لنڈن میں ہی مجھے ایک احمدی بہن کی رؤیا کا علم ہوا جوان کے ایک عزیز نے مجھے لکھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کا تعلق دراصل اس رؤیا سے ہے جس کو میں نے ابھی آپ کے سامنے بیان کیا ہے وہ دوست لکھتے ہیں (خواب دیکھنے والی ان کی ایک عزیزہ ہے ) کہ پندرہ اور سولہ جولائی کی درمیانی شب بوقت چار بجے صبح خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑ اوسیع میدان ہے جو ایک بڑے شہر جتنی جگہ میں سمایا ہوا ہے اور سبزہ زار ہے اس میدان کے درمیان ایک گلدستہ پڑا ہوا ہے جس میں نہایت ہی خوبصورت پھول لگے ہوئے ہیں جو د یکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ گلدستہ ایک درخت کی شکل میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتا ہے اور بالآخر ایک تناور درخت بن کر اس تمام میدان میں سایہ فگن ہو جاتا ہے۔اتنے میں ایک بزرگ رونما ہوتے ہیں جو سفید لباس میں ملبوس ہیں اور ان کا حلیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملتا ہے۔وہ بزرگ فرمارہے ہیں کہ جو شخص اس تناور درخت کے نیچے پناہ نہیں لے گا وہ تباہ ہو جائے گا اس پر حمیدہ بیگم (خواب دیکھنے والی) نے پوچھا کہ یا حضرت کون سے درخت کے نیچے۔جس پر اس بزرگ نے فرمایا حضرت ناصر کے درخت کے نیچے۔گویا وہ گلدستہ جس نے ایک تناور درخت کی صورت اختیار کی وہ جس شخص کا ہے اس سے مراد اس خاکسار کا وجود ہی ہے۔پھر اس کے بعد دیکھا کہ اس میدان کے ایک کو نہ میں ایک بہت بڑی دعوت کا انتظام ہو رہا ہے جس میں بہت عمدہ عمدہ کھانے بہت بڑی تعداد میں لگے ہوئے ہیں اور جس میں شمولیت کے لئے جماعت کے دوست جمع ہورہے ہیں۔اس میں دہی کے کونڈے بھی ہیں اور دو سیاہی مائل کتے ان دہی کے کونڈوں کی طرف لپکتے ہیں جس پر حمیدہ بیگم نے شی شی کر کے ان کتوں کو ڈرانے کی کوشش کی تو ان بزرگ صاحب نے فرمایا۔نہ۔آپ ان کو رہنے دیں یہ خود بخودہٹ جائیں گے۔اس پر آنکھ کھل گئی۔تو گویا یہ خواب بھی میری رؤیا سے ملتی جلتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ مومن کو رویا دکھائی بھی جاتی ہے اور اس کے لئے دوسروں کو بھی رؤیا دکھائی جاتی ہے۔ویسے توسینکڑوں کی تعداد میں دوستوں نے مبشر خوا ہیں دیکھیں لیکن میں نے ان میں سے آج کے خطبہ میں سنانے کے لئے