خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 818 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 818

خطبات ناصر جلد اوّل ΔΙΑ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء پھر میں نے دیکھا کہ وہ نماز کی (قیام کی ) حالت میں ہے۔یعنی اس نے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔پھر جب میں نے غور کیا۔تو میں نے اس کے ہونٹوں کو ہلتے پایا اور میری طبیعت پر یہ اثر ہوا کہ یہ سورۃ حمد پڑھ رہی ہے اور ہونٹ اس کے ہل رہے تھے۔اس کے بعد وہ شخص جو ہمیں وہاں لے گیا تھا اس وقت ذہن میں نہیں تھا کہ وہ کون ہے اور نہ بعد میں ہی ذہن میں آیا ، اس نے کہا آئیں ، آپ کو عجائب گھر اس قلعہ کا دکھا ئیں۔چنانچہ میں اور منصورہ بیگم اُٹھے اور اس کے ساتھ گئے۔وہ ہمیں بائیں طرف لے گیا۔اس کمرے کی طرف جو سامنے کی دیوار کے پہلو میں ( دوسرے بازو کا ایک ہی کمرہ نظر آتا تھا۔جب ہم اس کے اندر داخل ہوئے تو میں نے دیکھا کہ داہنی طرف نو جوانوں کی پانچ تصویریں ہیں جوگنتہ کو کاٹ کر بنائی گئیں ہیں اور ان کے قد ساڑھے پانچ فٹ یا چھ فٹ نہیں بلکہ وہ تصویر میں بڑے سائز میں بنائی گئیں ہیں اور قریبا دس فٹ قد ہیں ان کے۔یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ ان میں سے تین نوجوان مرد اور دو نو جوان لڑکیاں تھیں یا دو مرد اور تین نوجوان لڑکیاں تھیں لیکن وہ شکلیں کارڈ بورڈ کاٹ کر بنائی گئیں ہیں اور وہ پہلو بہ پہلو کھڑی کی ہوئی ہیں۔جس وقت میں نے اس طرف منہ کیا تو ان کے ہونٹ ہلنے شروع ہوئے جس طرح وہ اپنا تعارف کروانا چاہتی ہیں اور اس شخص نے جو ہمیں لے جا رہا تھا کہا کہ یہ ہم میں سے وہ لوگ ہیں جو مر چکے ہیں۔اس پر میں نے اُس کو جواب دیا کہ تم میں سے جو لوگ مر چکے ہیں ان میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور یہ کہہ کر میں بائیں طرف گھوما اور اس عجائب گھر کی طرف چلا گیا جو وہ مجھے دکھانا چاہتا تھا اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس رؤیا کے بعد میری طبیعت میں بڑی بشاشت پیدا ہوئی اور میں نے فیصلہ کیا کہ اس سفر پر مجھے ضرور جانا چاہیے اللہ تعالیٰ برکت کےسامان پیدا کرے گا۔یہ رویا اس قسم کی ہے کہ الفاظ اس کو بیان نہیں کر سکتے۔اس وقت تک بھی میری روح اور میرا دماغ اور میرا دل اور میرا جسم اس کا سرور محسوس کر رہے ہیں۔چونکہ یہ بڑی اہم رؤ یا تھی اور انسان کی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اس لئے میں نے اپنے گھر میں محترمہ ام متین صاحبہ کو بڑی پھوپھی جان نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو اور کراچی میں چھوٹی پھوپھی جان نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کو اور بعض دوسرے عزیزوں کو یہ رو یا سنادی۔