خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 809 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 809

خطبات ناصر جلد اول 1+9 خطبہ جمعہ ۱۱ اگست ۱۹۶۷ء دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ سے ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔قرآنی علوم کے مقابلہ میں بائبل کی کچھ بھی حیثیت نہیں ہے۔صرف سورۂ فاتحہ کی سات آیات ہی کو لے لیجئے ان کا مقابلہ بھی پوری تورات وانجیل نہیں کر سکتے چہ جائیکہ تو رات اور انجیل مکمل قرآن کے مقابلے میں ٹھہر سکیں۔آپ نے عیسائی مبلغین کوللکارا کہ وہ تو رات اور انجیل کی تعلیمات کو قرآن کے مقابلے میں پیش کریں۔صرف سورۂ فاتحہ ہی ایک ایسی جامع اور مکمل تعلیم پیش کرتی ہے جس کے مقابلے میں ان کی کئی کتب کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ پینج آج بھی قائم ہے اور میں اس بات کا آج بھی اعادہ کرتا ہوں کہ رومن کیتھولک اور عیسائیوں کے دوسرے فرقوں کے سر براہ اس چیلنج کو قبول کریں اور اسلام اور عیسائیت کی سچائی کا فیصلہ کرلیں۔اسلام کی دوسری خصوصیت جو کہ دنیا کے کسی اور مذہب کو حاصل نہیں ہے یہ ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کے ساتھ زندہ تعلق اور تازہ معجزات پر مبنی ہے۔جب یہ دو خصوصیات ایک مذہب میں جمع ہو جا ئیں اس وقت اس کی روحانی روشنی سے سارا عالم جگمگا اٹھتا ہے اور اس کی ضیاء پاشی سے سارے شک وشبہات دور ہو جاتے ہیں۔اور دلوں کو اس کی روشنی یقین اور ایمان کی دولت سے مالا مال کر دیتی ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اسلام کی صداقت کے ثبوت کے طور پر سینکڑوں بلکہ ہزاروں نشانات دنیا کے سامنے پیش کئے جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پاکر پانچ عظیم تباہیوں کے بارے میں پیشگوئی فرمائی۔دو، پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی صورت میں عظیم الشان طور سے پوری ہوئیں۔تیسری ہولناک تباہی کے مہیب آثار آسمان پر ہویدا ہیں جس کے اثرات نہایت ہی خوفناک اور تباہ کن ہوں گے۔اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ خبر بھی دی کہ اس تیسری تباہی کے ساتھ غلبہ اسلام کا زمانہ بھی وابستہ ہے۔اس تباہی سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ انسان سچے راستے کو اختیار کرے اور وہ راستہ اسلام ہے۔اللہ تعالیٰ کا قہر عنقریب اس دنیا پر نازل ہونے والا ہے۔تباہی