خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 810
خطبات ناصر جلد اول ۸۱۰ خطبه جمعه ۱۱ اگست ۱۹۶۷ء کی آگ بھڑک اٹھی ہے آؤ اور استغفار کے آنسوؤں سے اس آگ کے لپکتے ہوئے شعلوں کو سرد کرو۔آؤ! اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم و کرم کے ٹھنڈے سائے تلے پناہ حاصل کرلو۔اُٹھو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک زندہ تعلق قائم کرو۔آؤ! اگر تم اس بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا چاہتے ہو۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس سے محفوظ رکھے۔آمین حضور نے خطبہ ثانیہ کے دوران اردو میں انگلستان کے احمدی احباب جماعت سے مخاطب ہوکر فرمایا:۔میں آپ کو فضل عمر فاؤنڈیشن کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔مکرم ومحترم مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری نے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود اس ضمن میں بڑی محنت سے کام کیا ہے اور بہت سے دوستوں نے فضل عمر فاؤنڈیشن کی طرف توجہ کی ہے۔اگر احمدی مستورات ڈنمارک کی مسجد کا تمام خرچ برداشت کر سکتی ہیں تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ انگلستان کے احمدی بھائی فضل عمر فاؤنڈیشن میں کیوں اس رقم سے کم چندہ پیش کریں۔جو احمدی بہنوں نے ڈنمارک کی مسجد کے لئے دی ہے۔میں محبت و پیار کی ایک مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ایک دن دفتر نے ( ملاقات کے پروگرام کے دوران ) مجھے اطلاع دی کہ ایک بزرگ دوست گجرات سے آئے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔وہ اتنے ضعیف اور بوڑھے ہیں کہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتے۔میں نے پیغام بھجوایا کہ اگر وہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتے تو میں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے نیچے اتر سکتا ہوں۔میں سیڑھیاں اتر کے ان کے پاس گیا۔وہ کھڑے ہو گئے اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے انہوں نے اپنی جیب یا دھوتی کی گرہ سے ایک رومال نکالا اور اسے کھول کر مجھے۔/ ۱۴۰ روپے دیئے کہ یہ فضل عمر فاؤنڈیشن کا چندہ ہے میں گجرات سے چل کر صرف یہی چندہ دینے آیا تھا۔ایک غریب آدمی جس کی ساری پونچھی شاید وہی تھی وہ حضرت فضل عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی محبت میں گجرات سے چل کر ربوہ آکر وہ رقم پیش کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جہاں دعویٰ محبت ہو وہاں اس کے مطابق عمل بھی ہونا چاہیے۔اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو۔مولوی قدرت اللہ صاحب