خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page viii of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page viii

VI اللہ تعالیٰ کے اس منصوبے کو ناکام کرنے کی کوشش کرے تو خود نا کام ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ کا منصوبہ ناکام نہیں ہوگا۔۔66 ( بحوالہ حیات ناصر جلد اول صفحہ ۵۷۸) آپ کے دور خلافت پر لکھنا آسان نہیں ،سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے، آپ کے دور پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔پھر خلافت ثالثہ کا دور آیا۔حضرت خلیفتہ امی الثانی کی وفات کے بعد پھر اندرونی اور بیرونی دشمن تیز ہوا۔لیکن کیا ہوا ؟ کیا جماعت میں کوئی کمی ہوئی ؟ نہیں، بلکہ خدا تعالی نے اپنے وعدوں کے مطابق پہلے سے بڑھ کر ترقیات کے دروازے کھولے۔مشنوں میں مزید توسیع ہوئی۔افریقہ میں بھی ، یورپ میں بھی اور پھر افریقہ کے دورے کے دوران حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے نصرت جہاں سکیم کا اجراء فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ، ایک رؤیا کے مطابق۔ہسپتال کھولے گئے۔سکول کھولے گئے ، ہسپتالوں میں اب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں مریض شفا پاچکے ہیں۔گورنمنٹ کے بڑے بڑے ہسپتالوں کو چھوڑ کر ہمارے چھوٹے چھوٹے دور دراز کے دیہاتی ہسپتالوں میں لوگ اپنا علاج کرانے آتے ہیں۔بلکہ سرکاری افسران بھی اس طرف آتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ ہمارے ہسپتالوں میں جو واقفین زندگی ڈاکٹر ز کام کر رہے ہیں وہ ایک جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ان کے پیچھے خلیفہ وقت کی دعاؤں کا بھی حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے خلیفہ کی لاج رکھنے کے لئے ان دعاؤں کو سنتا ہے اور جہاں بھی کوئی کارکن اس جذبے سے کام کر رہا ہو کہ میں دین کی خدمت کر رہا ہوں اور میرے پیچھے خلیفہ وقت کی دعائیں ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی اس میں بے انتہا برکت ڈالتا ہے۔پھر سکولوں میں ہزاروں لاکھوں طلبا ءاب تک پڑھ چکے ہیں۔