خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 745
خطبات ناصر جلد اول ۷۴۵ خطبہ جمعہ ۱۶ جون ۱۹۶۷ء تعمیر بیت اللہ کے تمام مقاصد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ذریعہ پورے ہوں گے خطبہ جمعہ فرمود ه ۱۶ / جون ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔کل قریباً سارا دن شدید دردسر کا دورہ رہا اور اس وقت میں کافی ضعف محسوس کر رہا ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ جن تیئیس مقاصد کے متعلق ( جن کا تعلق بیت اللہ سے ہے ) میں نے سلسلہ خطبات شروع کیا ہے اس کو جاری رکھوں اور جو آخری غرض اور مقصد بیان ہو نا رہ گیا تھا اس کے متعلق آج کے خطبہ میں اپنے خیالات کا اظہار کروں۔تعمیر بیت اللہ کی تیئیسویں غرض رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ ط وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔(البقرة : ۱۳۰ ) میں بیان ہوئی تھی اور اس آیت میں بتایا گیا تھا کہ ایک ایسا نبی یہاں مبعوث کیا جائے گا جو قیامت تک زندہ رہے گا اور اپنے فیوض کے ذریعہ اور افاضہ روحانی کی وجہ سے اس پر کبھی موت وارد نہ ہوگی ، ہمیشہ کی زندگی اس کو عطا کی جائے گی اور اسے ایک ایسی شریعت دی جائے گی جو ہمیشہ رہنے والی ہوگی ، منسوخ نہیں ہوگی کیونکہ وہ الکتاب (ایک کامل اور مکمل شریعت ) ہوگی اور ایک ایسی امت پیدا کی جائے گی جو بصیرت پر قائم ہوگی۔حکمت انہیں سمجھائی جائے گی اور دلائل انہیں عطا کئے جائیں