خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page vii
V تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا ، تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے۔مگر ان کے لئے نہیں ہے۔تمہارا اسے فکر ہے، درد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولیٰ کے حضور تڑپتا رہتا ہے لیکن ان کے لئے ایسا کوئی نہیں ہے۔کسی کا اگر ایک بیمار ہو تو اس کو چین نہیں آتا۔لیکن کیا تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہوجس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ہوں۔پس تمہاری آزادی میں تو کوئی فرق نہیں آیا ہاں تمہارے لئے ایک تم جیسے ہی آزاد پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوگئی ہیں“ (انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۵۸) یہ نظارہ انفرادی طور پر تو ہر آن جماعت محسوس کرتی ہے اور مشاہدہ بھی کرتی ہے۔لیکن ۱۹۷۴ء میں اجتماعی طور پر جب جماعت پر ابتلا کا دور آیا تو ساری جماعت کا در داس ایک دل میں جو جمع ہوا تو اس کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :۔د نیوی لحاظ سے وہ تلخیاں جو دوستوں نے انفرادی طور پر محسوس کیں وہ ساری تلخیاں میرے سینے میں جمع ہوئی تھیں۔ان دنوں مجھ پر ایسی راتیں بھی آئیں خدا کے فضل اور رحم سے ساری ساری رات ایک منٹ سوئے بغیر دوستوں کے لئے دعائیں کرتا رہا۔میرا خیال ہے کہ دو مہینے میں بالکل سو نہیں سکا تھا۔کئی مہینے دعاؤں میں گزرے تھے۔“۔۔۔۔۔( بحوالہ حیات ناصر جلد اول صفحه ۴۰۱) آپ کا دور خلافت ایک تاریخی دور تھا، جماعت نے کئی سنگ میل اس میں عبور کئے ، حضرت مصلح موعود کی وہ پیشگوئی آپ کے دور ہی میں پوری ہوئی تھی کہ اگر حکومتیں بھی اس سے ٹکر لیں گی تو پاش پاش ہو جائیں گی۔جماعت نے یہ نظارہ دیکھا اور بڑی شان سے اس پیشگوئی کو پورے ہوتے ہوئے دیکھا۔جماعت کے ہاتھوں میں کشکول تھمانے والے خود اپنے ہاتھوں میں کشکول پکڑ کر اپنی زندگیوں کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے لیکن جماعت اللہ کے فضل سے بڑھتی ہی چلی گئی۔کیا تعداد میں اور کیا ایمان میں۔ایمان و عرفان کی دولت ہو یا مادی دولت ، جماعت کی اس ترقی کا گراف حیرت انگیز طور پر بڑھتا اور بڑھتا ہی چلا گیا۔آپ کو اس ترقی کا یقین تھا اور اعتماد تھا کہ ہماری ساری کوششیں اور سارے منصوبے کامیاب ہوں گے۔آپ نے فرمایا تھا:۔ہمیں یقین ہے کہ ہماری یہ جدو جہد کا میاب ہوگی اور ساری دنیا اکٹھی ہو کر بھی