خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page vi
IV یہی طریق ہے دلوں کو جیتنے کا۔اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں۔“ ( خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ اکتوبر 1980ء بحوالہ دورہ مغرب صفحه ۵۳۴،۵۳۳) ”آپ محبت کا سفیر بن کر ملک ملک اور قوم قوم کو محبت اور پیار کا سبق دیتے رہے۔آپ کو اپنی جماعت سے بہت ہی پیار تھا جس کا اظہار بعض اوقات ان الفاظ میں بھی کیا کرتے تھے کہ جماعت اور خلیفہ وقت ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔“ آپ کے پیار کا دامن اپنوں سے لے کر غیروں اور دشمنوں تک پھیلا ہوا تھا۔آپ معاندین کے دکھوں کے جواب میں مسکرا دیا کرتے تھے اور اپنی جماعت کو نصیحت کے رنگ میں فرماتے تھے۔دنیا تیوریاں چڑھا کے اور سرخ آنکھیں کر کے تمہاری طرف دیکھ رہی ہے تم مسکراتے چہروں سے دنیا کو دیکھو۔“ آپ نے فرمایا :۔ہمیشہ یادرکھو کہ ایک احمدی کسی سے دشمنی نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے کیونکہ اس کے خدا نے اسے پیار کرنے کے لئے اور خدمت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔“ 66 ( بحوالہ حیات ناصر جلد اول صفحہ ۸ ) ہمارے پیارے امام کے دل میں جماعت کے لئے کتنا درد ہوتا ہے اس کا اظہار ایک مرتبہ حضرت مصلح موعود نے اس طرح فرمایا تھا کہ وو دیکھنے والوں کو تو یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہو گی کہ کئی لاکھ کی جماعت پر حکومت مل گئی۔مگر خدا را غور کرو کیا تمہاری آزادی میں پہلے کی نسبت کچھ فرق پڑ گیا ہے۔کیا کوئی تم سے غلامی کرواتا ہے یا تم پر حکومت کرتا ہے یا تم سے ماتحتوں ، غلاموں اور قیدیوں کی طرح سلوک کرتا ہے۔کیا تم میں اور ان میں جنہوں نے خلافت سے روگردانی کی ہے کوئی فرق ہے۔کوئی بھی فرق نہیں۔لیکن نہیں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ تمہارے لئے ایک شخص تمہارا در درکھنے والا ، تمہاری محبت رکھنے والا، تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا ،