خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 654 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 654

خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۱/۲۱ پریل ۱۹۶۷ء ہیں۔اس کے شروع میں سورۃ فاتحہ ہے اور سورۂ فاتحہ میں جو معارف اور حقانی دلائل بیان ہوئے ہیں ان معارف اور دلائل کے مقابلہ پر اپنی تمام روحانی کتب سے اگر تم وہ دلائل اور معارف نکال کر دکھا دو تو ہم سمجھیں گے کہ تمہاری کتابیں قرآن کریم کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔اس دعوت مقابلہ پر ایک لمبا زمانہ گذر چکا ہے اور کیتھولک ازم میں کئی پوپ یکے بعد دیگرے پیدا ہوئے اور کیتھولک چرچ کی سربراہی انہیں حاصل ہوئی۔اسی طرح دوسرے فرقے تھے عیسائیوں کے ان میں سے کسی ایک کے سربراہ کو بھی یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ سورہ فاتحہ کے مقابلہ میں اپنی کتب سماوی سے اس قسم کے دلائل نکال کر پیش کر سکے۔جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ تھا کہ ہم اس سورۃ سے نکال کر تمہارے سامنے رکھیں گے۔پس لا ریب فیہ کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ کتاب جو اپنے ذاتی کمالات اور فضائل اور بے نظیر تعلیمات کے ساتھ اپنی ضرورت اور صداقت کو ثابت کر سکتی ہے اور جب آپ سے سوال کیا گیا کہ قرآن کریم کی ضرورت کیا ہے تو اس کا جو جواب دیا گیا اور اس جواب میں جس دعوت فیصلہ کی طرف بلایا گیا اس کو آج تک عیسائی فرقوں کے سر براہوں نے قبول نہیں کیا اور اس سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ وہ سورہ فاتحہ کے مضامین کے مقابلہ میں اپنی کتب سماوی کے مضامین کو پیش نہیں کر سکتے۔الكتب کامل کتاب ہونے کی دوسری دلیل لا رَيْبَ فِيهِ میں اللہ تعالیٰ نے یہ دی ہے کہ قرآنی تعلیم انسان کو ظن اور گمان کے بے آب و گیاہ ویرانوں سے اٹھا کر دلائل اور آیات بینات کے ساتھ یقین کی رفعتوں تک پہنچاتی ہے اور یہ خوبی ہمیشہ اس میں قائم رہے گی۔کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے محفوظ کیا ہوا ہے۔رب کے ایک معنی کے لحاظ سے یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ یہ کتاب خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہے۔شیطانی دجل اس میں راہ نہیں پاسکتا۔اس لئے اس کا جواثر انسان کی روح پر آج پڑ رہا ہے وہی اثر اس کا قیامت تک انسان کی روح پر پڑتا چلا جائے گا۔اس لئے یہ الکتب ایک کامل کتاب ہے۔لَا رَيْبَ فِیهِ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ کوئی ایسی ہدایت اور صداقت جو ایک کامل کتاب میں ہونی چاہیے وہ اس سے باہر نہیں رہی اس کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام