خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 636 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 636

خطبات ناصر جلد اول ۶۳۶ خطبہ جمعہ ۳۱ / مارچ ۱۹۶۷ء ایک وہ عبادت ہے جو تذلل اور انکسار کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے اور ایک وہ عبادت ہے جو محبت اور ایثار کی بنیادوں پر قائم ہے۔ہماری نماز جو ہے یہ اس قسم کی عبادت ہے جو تذلل اور انکسار کے مقام پر کھڑی ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ نماز دعا ہے اور دعا کے لئے انتہائی تذلل اور انکسار کو اختیار کرنا ضروری ہے۔جس شخص کے دماغ میں اپنے رب کے مقابلہ میں ایک ذرہ بھی تکبر ہو اس کی دعا کبھی قبول نہیں ہوسکتی۔پس ہماری نماز میں صرف اس صورت میں عبادت بنتی ہیں کہ جب وہ حقیقتا تذلل اور انکسار کے مقام پر کھڑی ہوں۔اس کے مقابلہ میں دوسری عبادت وہ ہے جو محبت اور ایثار کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ عبادت جس کا تعلق تعمیر کعبہ سے ہے۔جس کا تعلق حفاظت کعبہ سے ہے اور جس کا تعلق بیت اللہ کے لئے خود کو اور اپنی اولا د کو وقف کر دینے کے ساتھ ہے اور اس کے لئے دعائیں کرنے کا تعلق ہے یہ محبت والی عبادت ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت اور خدا تعالیٰ کے عشق کا جو مظاہرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا وہ عدیم المثال تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ مقام ابراہیم ہے اس مقام سے ہم ایک ایسی اُمت پیدا کریں گے جو لاکھوں کی تعداد میں ہوگی اور ہر زمانہ میں پائی جاتی ہوگی اور اس اُمت کے کسی فرد کا اگر تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کے ساتھ مقابلہ کرو گے تو اس کو ان سے کم نہیں پاؤ گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اس قوم نے پیدا ہونا تھا لیکن اس قوت قدسیہ کے جو اثرات ہیں ان کو دنیا میں موثر طریق پر پھیلانے کے لئے قریباً اڑھائی ہزار سال پہلے خانہ کعبہ کی بنیاد از سر نو ر کھی گئی تھی تو یہاں یہ فرمایا کہ ظاہری شکل حج کے ارکان کی ، اس عبادت کی خودہی ایسی ہے جس کا تعلق محبت سے ہے۔مثلاً طواف کرنا ہے۔اب یہ تخیل قریباً ساری اقوام میں پایا جاتا ہے کہ جب کسی کے لئے جان کی قربانی دینا ہوتی ہے تو اس کے گرد گھومتے ہیں۔ہمارے بعض بادشاہوں کے متعلق بھی آتا ہے کہ ان میں سے کسی کا بچہ بیمار تھا۔اس نے اس کا طواف کیا اور دعا کی میری زندگی اس کومل جائے۔پس جان قربان کرنے کا جو تخیل ہے وہ طواف کے ساتھ گہراتعلق رکھتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ یہاں سے ایک ایسی قوم پیدا کی جائے گی