خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 619
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۱۹ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۶۷ء انہیں موت نظر آتی تھی دوسرے یہ پیشگوئی فرمائی کہ حضرت مسیح موعود کو مبعوث فرما کر وہ ایک اور قوم پیدا کرے گا جو اس کی راہ میں اپنے اموال پانی کی طرح بہا دیں گے۔شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو انفاق فی سبیل اللہ کی عادت ڈالنی پڑی تو آنہ آنہ دود و آنہ لے کر یہ عادت ڈالی پھر بعد میں وہی لوگ تھے جنہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا لیکن وہ ان لوگوں میں سے اس جماعت میں داخل ہو رہے تھے جن کے لئے خدا کی راہ میں ایک آنہ خرچ کرنا بھی دوبھر تھا پھر جب انہوں نے ایک آنہ پھر دوآنہ پھر چار آنہ پھر آٹھ آنہ پھر روپیہ پھر دس روپیہ دیا اور آخر وہ انفاق فی سبیل اللہ کے جذبہ سے مست رہنے لگے اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ قوم بنادی يَسْتَبدِلُ قَوْمًا غَيْرَ كُمْ کہ جو انفاق فی سبیل اللہ بشاشت سے کرتے چلے جاتے ہیں۔جس قوم نے اپنی یہ روایت بنائی ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کی راہ میں ان کا ہر سال پہلے سے آگے ہوگا اور ان کا ہر قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا کبھی ایک جگہ کھڑا نہیں رہے گا پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ وہ قوم ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کہتا ہے۔ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے جن کا تتولوا میں ذکر ہے بلکہ یہ ایک کنٹراسٹ (Contrast) ہو گا ایک نمایاں چیز ان کے اندر ایسی پائی جائے گی جو ان کو تم سے علیحدہ کر دے گی۔ایک غریب چھوٹی سی جماعت ہے ہماری جیسا کہ ہم میں سے ہر ایک جانتا ہے اور غیر بھی جانتے ہیں پھر یہ توفیق ایک غریب جماعت کو کہاں سے ملی اور کس نے دی کہ وہ اسلام کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کریں اور پھر وہ کونسی ہستی ہے جس نے ان کے اموال میں اتنی برکت ڈالی کہ اگر آج ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کرنے والی کوئی جماعت ہے تو یہی غریب اور چھوٹی سی جماعت ہے۔اللہ تعالیٰ اتنی برکت ڈالتا ہے اس جماعت کی مالی قربانیوں میں کہ ہماری عقلیں بھی اسے سمجھنے سے قاصر ہیں لیکن وہ ہمارے اموال میں برکت پر برکت ڈالتا چلا جاتا ہے آپ ایک دھیلہ دیتے ہیں اور ایک پہاڑ اس کا نتیجہ نکل آتا ہے جیسا کہ میں نے جلسہ سالانہ پر بھی بتایا تھا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب تحریک جدید کا اجراء کیا تو پہلے سال قریباً ستائیس ہزار روپیہ